سلطان احمد الجابر نے آبنائے ہرمز کی بندش پر شدید ردعمل دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو بحال کیا جا سکے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی مداخلت ناقابلِ قبول ہے اور یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کی بندش سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔
سلطان الجابر نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہے، تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی اقتصادی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائیں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ایران کے خلاف مؤثر کارروائی کریں تاکہ اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے، اور اس کی بندش نہ صرف تیل بلکہ عالمی تجارت، شپنگ اور سپلائی چین کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں میں توانائی کی قلت اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و مغربی طاقتوں کے درمیان تنازع ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت دونوں پر مرتب ہوں گے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کا بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف تیل کی قیمتیں بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہوں گی۔
