تہران: ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، ایرانی فوج کے آپریشنل کمانڈر چیف جنرل امیر حاتمی نے اعلیٰ عسکری قیادت کے اجلاس میں امریکی اور اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔ اجلاس میں جنرل حاتمی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کی ہر ممکنہ نقل و حرکت پر لمحہ بہ لمحہ نگرانی کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔
جنرل حاتمی نے واضح کیا کہ اگر دشمن ایران کی سرحدوں یا حساس علاقوں پر زمینی حملے کی کوشش کرے تو ان کے ایک بھی سپاہی کو زندہ نہ چھوڑا جائے گا، جس سے ایران کی جانب سے سخت اور فیصلہ کن ردعمل کی بھرپور نشاندہی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی فوج نے جدید نگرانی نظام اور انسداد حملہ آلات کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان ایران کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سب سے سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران پر ممکنہ کارروائی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، ایران کی عسکری قیادت نے اپنے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ نہ صرف زمینی بلکہ ہوائی اور بحری خطرات پر بھی مکمل توجہ رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کے جارحانہ اقدام کو ناکام بنایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جنرل حاتمی کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں فوجی تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور عالمی سطح پر ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں پر دباؤ ڈالے گا۔ دوسری جانب، ایران کی یہ حکمت عملی امریکی اور اسرائیلی فوجی منصوبوں کے لیے واضح انتباہ کا پیغام بھی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔
