ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تجویز بدھ کے روز ایک تیسرے ملک کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی تھی، تاہم اس ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
ادھر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے ہونے والی علاقائی سفارتی کوششیں، جن میں پاکستان مرکزی کردار ادا کر رہا تھا، حالیہ مرحلے میں اختتام کو پہنچ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا ہے، جس سے مذاکراتی عمل کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ثالثی میں شامل ذرائع کے مطابق تہران نے باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں کسی بھی سطح پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب فوجی کشیدگی میں اضافے کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکراتی عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا تو خطہ ایک طویل اور پیچیدہ تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے
