بین الاقوامی بحری سرگرمیوں اور بندرگاہی ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ چین ایران کو ایسے کیمیائی مادوں کی بڑی مقدار فراہم کر رہا ہے جو بیلسٹک میزائلوں کے ٹھوس ایندھن کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران مسلسل فوجی دباؤ، فضائی حملوں اور عالمی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود اس کی میزائل سازی کی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق جنگی حالات کے دوران ایران کے کم از کم چار ایسے بحری جہاز ایرانی بندرگاہوں تک پہنچے جو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ایک پانچواں جہاز بھی ایرانی ساحل کے قریب دیکھا گیا۔ ان جہازوں کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ سوڈیم پرکلوریٹ نامی کیمیائی مادہ لے کر آئے، جو ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کی تیاری کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ جہاز چین کے جنوبی ساحلی شہر ژوہائی کی گاولان بندرگاہ سے روانہ ہوئے۔ اس بندرگاہ کو کیمیائی مادوں کے ذخیرے اور برآمدات کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہاں بڑی مقدار میں صنعتی مواد رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بندرگاہ سے نکلنے والی کھیپوں پر عالمی سطح پر خصوصی نظر رکھی جاتی ہے۔
ایران پہنچنے والے جہازوں میں ہامونا، بارزین، شبدیس، رائن اور زاردیس شامل ہیں۔ ہامونا نامی جہاز جنگ شروع ہونے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے چین سے روانہ ہوا تھا اور 26 مارچ کو ایرانی بندرگاہ بندر عباس پہنچا۔ دیگر جہاز مختلف اوقات میں ایران پہنچے یا راستے میں موجود رہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کے ذریعے پہنچنے والی مقدار معمولی نہیں بلکہ اتنی زیادہ ہے کہ اس سے سینکڑوں بیلسٹک میزائل تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق یہ حالیہ کھیپ ایران کو مزید تقریباً سات سو پچاسی میزائل تیار کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو ایران ایک ماہ تک روزانہ دس سے تیس میزائل داغنے کی صلاحیت برقرار رکھ سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران حالیہ عرصے میں میزائل ایندھن کی شدید قلت کا شکار تھا۔ مسلسل حملوں، پابندیوں اور نگرانی کی وجہ سے خام مال کی فراہمی محدود ہو گئی تھی، مگر چین سے آنے والی نئی ترسیلات نے اس کمی کو کافی حد تک پورا کر دیا ہے۔ اسی لیے ایران کی میزائل سازی کی صنعت مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوئی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے سابق اہلکار میاد مالکی نے کہا کہ یہ ترسیلات واضح کرتی ہیں کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کو ہر صورت جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کو اسی طرح خام مال ملتا رہا تو وہ اپنی عسکری طاقت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
اسلحہ سازی کے ماہر جیفری لیوس نے بھی اس صورتحال کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدید بمباری اور دباؤ کے باوجود ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت اب بھی قائم ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ تیار شدہ میزائل نہیں بلکہ ان کے لیے درکار خام مال ہے، اور اگر یہ خام مال مسلسل پہنچتا رہا تو ایران اپنی پیداوار جاری رکھ سکے گا۔
اسی طرح کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے وابستہ محقق اسحاق کارڈون نے کہا کہ چین براہ راست ہتھیار فراہم کرنے کے بجائے ایسے تجارتی مواد کی فراہمی کر رہا ہے جسے بظاہر عام صنعتی سامان قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر چین عالمی سطح پر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ اسلحہ نہیں بلکہ عام تجارتی اشیا بھیج رہا ہے، حالانکہ یہی مواد ایران کی عسکری تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
مزید یہ بھی سامنے آیا کہ بعض جہازوں نے اپنی نقل و حرکت چھپانے کے لیے نگرانی کا نظام بند رکھا تاکہ ان کی درست پوزیشن معلوم نہ ہو سکے۔ اس کے باوجود بحری راستوں، بندرگاہی ریکارڈ اور روانگی کے اوقات سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ چین مسلسل ایران کو خام مال پہنچانے میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔
بعض مبصرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں صرف سمندری راستہ ہی استعمال نہیں ہوگا بلکہ زمینی راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان کے ذریعے ایران تک صنعتی اور کیمیائی مواد پہنچانے کی کوشش کی جائے، جس سے ایران کی عسکری پیداوار مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
