ایران میں سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر سنگین رخ اختیار کر گئی ہے، جہاں پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ سید مجید خادمی کی ہلاکت کی تصدیق سرکاری میڈیا نے کر دی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامک ریولوشنری گارڈ کور کے جاری کردہ بیان کے مطابق میجر جنرل مجید خادمی پیر کی صبح ایک “دہشت گرد حملے” میں مارے گئے۔ بیان میں اس حملے کا الزام “امریکی-صیہونی دشمن” پر عائد کیا گیا ہے، تاہم واقعے کی جگہ اور حملے کی نوعیت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایرانی حکام نے اس واقعے کو موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا ہے اور اسے “تیسری مسلط جنگ” کا حصہ قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف علاقوں، خصوصاً دارالحکومت تہران میں حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے سکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں مجید خادمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کئی دہائیوں تک ملک کے حساس سکیورٹی اور انٹیلی جنس عہدوں پر فائز رہے اور قومی دفاع میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار کی ہلاکت نہ صرف ایران کے لیے بڑا سکیورٹی دھچکا ہے بلکہ اس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
