امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی سطح پر گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ بیانات، دھمکیوں اور عسکری سرگرمیوں کے تسلسل نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں ہر گزرتا لمحہ غیر یقینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اسی تناظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سخت اور غیر معمولی بیان نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
ایران نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ وہ محض عارضی جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوگا۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر کوئی حل نکالنا ہے تو وہ مکمل اور مستقل امن کی صورت میں ہونا چاہیے، نہ کہ ایسا وقفہ جو وقتی طور پر لڑائی کو روکے اور بعد میں دوبارہ کشیدگی کو جنم دے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس بات پر زور دیا کہ دباؤ کے تحت کیے گئے فیصلے دیرپا ثابت نہیں ہوتے اور اس سے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی قیادت کی طرف سے سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک مقررہ آخری وقت دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ کارروائیوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، جس میں پل، بجلی کے مراکز اور دیگر اہم تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر صورتحال نہ بدلی تو ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق وہ اس انجام سے بچنا چاہتے ہیں، لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بیان سامنے آنے کے بعد سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ اس نوعیت کی باتیں کسی بڑے فوجی اقدام کی نشاندہی کرتی ہیں۔
امریکہ نے ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی سرگرمیاں ختم کرے۔ آبنائے ہرمز ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل اور دیگر اشیاء فراہم کی جاتی ہیں۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، اسی لیے اس معاملے کو انتہائی حساس سمجھا جا رہا ہے۔
ادھر عسکری صورتحال بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی طیارے ایران کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران نے بھی اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اہم تیل برآمدی مرکز، خارگ جزیرے، کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایک اور اہم بات یہ کہی کہ ایران میں مکمل نظام کی تبدیلی کے بعد حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایک نئی اور زیادہ سمجھدار قیادت سامنے آتی ہے تو خطے میں امن کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ آخری لمحوں میں کوئی غیر معمولی پیش رفت بھی ممکن ہے جو حالات کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسے جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے اگر اس نوعیت کے اقدامات کیے گئے تو عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے دیا گیا آخری وقت قریب آتے ہی دنیا بھر کی نظریں اس صورتحال پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ ہر کوئی اس بات کا منتظر ہے کہ آیا ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا یا کسی سفارتی راستے کے ذریعے مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ کے تحت اپنے فیصلے تبدیل نہیں کرے گا اور اپنے مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
