ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے دو ہفتوں کی جنگ بندی اور مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے جاری اپنے اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دشمن کو ایک “ناقابل تردید، تاریخی اور عبرتناک شکست” سے دوچار کیا ہے۔
بیان کے مطابق ایران نے امریکا کو ایک جامع 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کر دیا، جس میں سب سے اہم شق امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف عدم جارحیت کی ضمانت دینا شامل ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس منصوبے میں آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو برقرار رکھنے، جوہری افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے اور ایران پر عائد تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے ایران کے خلاف منظور کی گئی تمام قراردادوں کو ختم کرنے، ایران کو جنگی نقصانات کا معاوضہ دینے اور خطے سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کی تجاویز بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ لبنان کے خلاف جاری تمام محاذوں پر جنگ بندی کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اس پیش رفت کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس تاریخی مرحلے پر قومی اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ اگرچہ جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہو رہی ہے، تاہم ایران اپنی دفاعی تیاریوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔ “ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا”، بیان میں خبردار کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ سخت اور پراعتماد مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران ایک جانب سفارتی حل کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ دوسری جانب دفاعی تیاریوں کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے، جو آئندہ مذاکرات کے ماحول پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment