اماراتی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر وضاحتیں طلب کی جائیں گی، تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزارت خارجہ کے مطابق یہ وضاحتیں خاص طور پر اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہیں کہ مستقبل میں خلیجی ممالک پر کسی بھی قسم کے ایرانی حملوں کو روکا جا سکے اور سکیورٹی صورتحال کو مستحکم بنایا جا سکے۔
اماراتی وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو بلا مشروط اور فوری طور پر کھولا جانا چاہیے، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں ایران کے خلاف ایک واضح اور سخت مؤقف اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
مزید کہا گیا کہ ایران کو جنگ کے دوران ہونے والے تمام نقصانات کا مکمل ہرجانہ ادا کرنا ہوگا، جس سے متاثرہ ممالک کی بحالی میں مدد مل سکے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امارات کا یہ مؤقف خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جہاں خلیجی ممالک جنگ بندی کو صرف عارضی حل نہیں بلکہ ایک مستقل اور قابل عمل معاہدہ بنانا چاہتے ہیں
