مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں شہزادہ فیصل بن فرحان اور عباس عراقچی کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ اس رابطے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تعلقات میں بہتری کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ رابطہ ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے کیا گیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے میں جاری سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق گفتگو کا محور خطے میں استحکام، سفارتی روابط کے فروغ اور ممکنہ تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تھا۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ باضابطہ مذاکرات سے قبل پیغامات اور سفارتی روابط پاکستان کے ذریعے جاری ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گی، جس سے مذاکراتی عمل میں تسلسل برقرار رہے گا۔
ادھر ایرانی میڈیا نے ایک افسوسناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران میں 3000 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق شہداء کی بڑی تعداد کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی، جس کے لیے فرانزک تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل نہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ جنگی نقصانات کی درست دستاویز بندی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ کئی پیچیدہ چیلنجز سے دوچار ہے۔ پاکستان کا ثالثی کردار بھی عالمی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت کو مزید اجاگر کر رہا ہے۔
