ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس عمل میں مکمل اختیار اور بھرپور تیاری کے ساتھ شریک ہوگا۔ ان کے مطابق ایران ان مذاکرات کو صرف رسمی سفارتی سرگرمی نہیں سمجھتا بلکہ اسے اپنی حالیہ کامیابیوں کو سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع تصور کرتا ہے۔
محمد رضا عارف نے کہا کہ اگرچہ ایران مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے، لیکن امریکہ کے ماضی کے رویے اور وعدوں سے انحراف کی تاریخ کے باعث تہران کے اندر اب بھی شدید بداعتمادی موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی پالیسیوں کے حوالے سے مکمل طور پر مطمئن نہیں اور اسی وجہ سے مذاکرات کے دوران ہر پیش رفت کو احتیاط اور گہرے غور کے ساتھ دیکھا جائے گا۔
ایرانی نائب صدر کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگی صورتحال میں ایران نے نہ صرف اپنے مخالفین کے اندازوں کو غلط ثابت کیا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت مشکل ترین حالات میں بھی منظم انداز میں فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چالیس دنوں کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال نے خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی سیاسی حکمت عملیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف کارروائی کرنے والے ممالک کو یہ توقع تھی کہ دباؤ کے نتیجے میں ایرانی نظام کمزور پڑ جائے گا، لیکن ایرانی عوام کے اتحاد اور ریاستی اداروں کی مضبوطی نے ان اندازوں کو ناکام بنا دیا۔ ان کے بقول دشمن کو سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی میدان میں ایسی شکست کا سامنا کرنا پڑا جو مستقبل میں ایک مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔
محمد رضا عارف نے ایرانی قوم کے ردعمل کو ایران کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی سطح پر ہونے والے مظاہروں، اجتماعات اور قومی یکجہتی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ایرانی عوام بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے ان عوامی سرگرمیوں کو ایران کی نرم قوت قرار دیا اور کہا کہ یہی عوامی حمایت ایران کے مؤقف کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
ایرانی نائب صدر نے پاکستان کے کردار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اسلام آباد نے امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے جو سفارتی کوششیں کیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے جنگ بندی کے لیے جو ماحول پیدا کیا، اس سے خطے میں مزید تباہی کو روکا جا سکا اور اب مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر مذاکرات برابری، احترام اور غیر جانبداری کی بنیاد پر ہوں تو ان کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں، لیکن اگر کسی ایک فریق نے دباؤ یا دھمکی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی تو ایسے عمل کی کامیابی ممکن نہیں ہوگی۔
