ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے امن مذاکرات کیلئے اسلام آباد روانگی سے قبل اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور جنگ سے نکلنے کا قابلِ عمل راستہ تلاش کریں۔
ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس کو ٹرمپ کے قریبی حلقے میں ایک نسبتاً محتاط اور سفارتی نقطۂ نظر رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے، جو طویل عرصے سے بیرون ملک فوجی مداخلت کے ناقد رہے ہیں اور کھلی جنگ میں امریکی افواج کی شمولیت کے خلاف تحفظات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔
ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے نتیجے میں جنگ بندی کمزور دکھائی دے رہی ہے اور اس کے ٹوٹنے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے ان اہم مذاکرات میں اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر بھی نائب صدر کے ہمراہ شریک ہوں گے۔ دونوں شخصیات اس سے قبل ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے مختلف ادوار میں حصہ لے چکی ہیں، جن کا مقصد ایران کے جوہری اور بیلسٹک پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ سے متعلق امریکی خدشات کو کم کرنا تھا۔
یہ مذاکرات 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد ایک اہم سفارتی مرحلے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، جب امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش ضرور ہے، تاہم موجودہ سیاسی اور عسکری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کسی بڑے اور فوری بریک تھرو کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں
