امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین آئندہ چند ہفتوں کے دوران ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ بیجنگ ان نظاموں کی ترسیل کیلئے تیسرے ممالک کا راستہ اختیار کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ چین کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے طیارہ شکن میزائل سسٹمز فراہم کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں قائم چینی سفارتخانے نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے کبھی بھی کسی تنازع کے فریق کو ہتھیار فراہم نہیں کیے، اور امریکی میڈیا میں زیر بحث یہ معلومات درست نہیں ہیں۔
چینی سفارتخانے کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر چین اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتا ہے اور وہ امریکا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بے بنیاد الزامات، غلط روابط اور سنسنی پھیلانے سے گریز کرے۔
بیان میں اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ متعلقہ فریقین خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں گے تاکہ صورتحال مزید خراب ہونے سے بچائی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم چین کی تردید کے بعد اس معاملے کی حقیقت جاننے کیلئے مزید شواہد اور تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
