اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ جنگ بندی سے متعلق قائم سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر سے اسپین کو باضابطہ طور پر نکالنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں جاری سفارتی کوششوں پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ مرکز امریکی صدر کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ، انسانی امداد کی فراہمی اور زمینی صورتحال کو مربوط انداز میں بہتر بنانا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے یہ فیصلہ اسپین کے حالیہ سیاسی مؤقف اور بیانات کے بعد کیا ہے۔ اسپین کے وزیراعظم نے حالیہ دنوں میں لبنان، غزہ اور ایران پر اسرائیلی حملوں پر سخت تنقید کی تھی، جسے اسرائیل نے اس تعاون کے فریم ورک سے عدم مطابقت قرار دیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اسپین کا موجودہ رویہ اور بیانات اس مشترکہ بین الاقوامی کوشش کے مقاصد سے ہم آہنگ نہیں رہے، اسی وجہ سے اسے مرکز سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف غزہ میں جنگ بندی کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر جاری امن کوششوں میں بھی پیچیدگیاں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے فریقین کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔
