اسلام آباد: ایران نے امریکا کے ساتھ ہونے والے اہم مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایک غیر متوقع سفارتی مداخلت کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی ایک فون کال نے پورے عمل کا رخ بدل دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو موصول ہونے والی فون کال نے بات چیت کے ماحول کو یکسر تبدیل کر دیا۔ ان کے بقول اس کے بعد امریکا کی توجہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے ہٹ کر اسرائیل کے مفادات پر مرکوز ہو گئی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے مذاکرات کی میز پر وہ حاصل کرنے کی کوشش کی جو وہ جنگ کے میدان میں حاصل نہ کر سکا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے مکمل نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا، تاہم بیرونی مداخلت نے سفارتی عمل کو متاثر کیا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں اکیس گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے طویل مذاکرات کے بعد کسی بھی معاہدے کے بغیر واپس روانہ ہو گئے، جس سے سفارتی سطح پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی دباؤ کے تحت اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب امریکی صدارتی دفتر کی جانب سے اب تک نیتن یاہو کی مبینہ فون کال کے حوالے سے نہ تو کوئی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید، جس کے باعث اس معاملے پر ابہام برقرار ہے اور عالمی سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی ایک نئے تنازعے کو جنم دے سکتے ہیں، جہاں ایک فون کال نے ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کر دیا۔
