انقرہ: ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بین الاقوامی فوجی فورس کی تعیناتی ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے، جس کے بجائے اس مسئلے کو صرف سفارتی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حاکان فیدان نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، کو بند یا غیر مستحکم ہونے سے بچانے کے لیے براہِ راست مذاکرات اور سفارت کاری ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران دونوں جنگ بندی کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ نے جوہری معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر جوہری افزودگی کا مسئلہ "سب یا کچھ نہیں” کی پالیسی میں بدل گیا تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیچیدہ تنازعات کا حل سخت مؤقف یا عسکری اقدامات کے بجائے لچکدار سفارت کاری میں ہے، تاکہ خطے کو بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ترکیہ کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک متوازن سفارتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جس میں عسکری حل کے بجائے مذاکرات اور سیاسی حل پر زور دیا گیا ہے۔
