ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ امریکی بحری محاصرہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگا اور اسے سمندری قزاقی کے مترادف سمجھا جائے گا۔ ایرانی عسکری قیادت کے مطابق اگر ایرانی بندرگاہوں یا بحری راستوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو خلیج اور بحرِ عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی، اور اس کے سنگین اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
ایرانی مسلح افواج کے مرکزی آپریشن روم، قرار گاہ خاتم الانبیاء، کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر کسی بھی قسم کی قدغنیں لگانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی عسکری ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات سمندری سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور انہیں قزاقی کے مترادف تصور کیا جائے گا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے اور اگر ایرانی بندرگاہوں یا تجارتی راستوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو ردعمل سخت اور فوری ہوگا۔
قرار گاہ خاتم الانبیاء کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے ایک مستقل اور واضح طریقہ کار متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ سمندری سرگرمیوں کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر خلیج فارس اور بحر عمان کے علاقوں میں ایرانی مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو خطے کی دیگر بندرگاہیں بھی غیر محفوظ ہو جائیں گی۔
ادھر واشنگٹن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ بحری محاصرہ پیر کے روز جی ایم ٹی کے مطابق دوپہر 14:00 بجے سے نافذ کیا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت وہ تمام جہاز جو ایران کی بندرگاہوں کی طرف جائیں گے یا وہاں سے روانہ ہوں گے، امریکی بحری افواج کی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں سلامتی کے تحفظ اور ایران کی مبینہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں پر محاصرہ نافذ کرے گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج کسی بھی خلاف ورزی کا سختی سے جواب دیں گی۔
اس محاصرے کے اچانک اعلان اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات بیس گھنٹوں سے زائد جاری رہے، تاہم امریکہ اور ایران کسی معاہدے پر متفق نہ ہو سکے۔ اس ناکامی کے بعد خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران جاری رہنے والے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر اموات ایران اور لبنان میں ہوئیں۔
مبصرین کے مطابق اس کشیدگی کے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، خاص طور پر تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی کیفیت بڑھ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔
اگرچہ دو ہفتوں کے لیے اعلان کردہ جنگ بندی 22 اپریل تک برقرار رکھنے کی بات کی گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ معاہدہ اپنی مدت تک قائم رہ سکے گا یا نہیں۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور جنگ بندی پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے، لیکن فریقین کی جانب سے ابھی تک اس بارے میں کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
امریکی وفد کے پاکستان سے روانہ ہونے کے بعد امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے محاصرے کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے وضاحت کی کہ جو جہاز ایران کی بندرگاہوں کی طرف نہیں جا رہے یا وہاں سے روانہ نہیں ہو رہے، انہیں اس محاصرے سے استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ بغیر کسی رکاوٹ کے گزر سکیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک اپنے بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ آبنائے ہرمز کے پانیوں میں موجود بارودی سرنگوں کو ہٹایا جا سکے، تاہم انہوں نے اس بات کی تفصیل نہیں بتائی کہ یہ آپریشن کس طریقے سے انجام دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کی قیادت نے امریکی اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا کہ دشمن آبنائے ہرمز کے ’’مہلک بھنور‘‘ میں پھنس جائے گا اور اسے اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
