ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ نئے مذاکراتی مرحلے سے قبل سفارتی ماحول میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، جہاں بیانات اور مؤقف دونوں جانب سے واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز اپنے تازہ بیان میں اس امر کو دو ٹوک انداز میں بیان کیا کہ ایران کسی بھی صورت جنگ کا خواہاں نہیں، بلکہ وہ ہمیشہ سے مسائل کے حل کے لیے بات چیت، افہام و تفہیم اور تعمیری روابط کو ترجیح دیتا آیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی نہیں بلکہ تعاون اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کسی ملک یا طاقت کی جانب سے ایران پر دباؤ ڈالنے، زبردستی اپنی شرائط منوانے یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق خودمختاری اور قومی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
ایرانی صدر نے عالمی نظام میں پائے جانے والے دوہرے معیار پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض طاقتیں بین الاقوامی قوانین کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرتی ہیں، جو کہ ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے پیچھے کون سا قانونی جواز پیش کیا جاتا ہے؟ انہوں نے شہری آبادی، ماہرین، بچوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسے عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے بقول تعلیمی اداروں اور طبی مراکز کی تباہی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔
یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق ممکنہ مقامات میں اسلام آباد، جنیوا یا استنبول شامل ہو سکتے ہیں، لیکن اس حوالے سے دونوں ممالک کے حکام محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں توسیع کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، جو آٹھ اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کے لیے نافذ کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دن انتہائی اہم ثابت ہوں گے اور حالات میں تیزی سے تبدیلی آ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ تہران کسی نہ کسی صورت واشنگٹن کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق فروری کے آخر میں شروع ہونے والی یہ طویل کشیدگی، جو چالیس دن تک جاری رہی، اب اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود فریقین کے درمیان اہم امور پر اختلافات بدستور موجود ہیں، جن میں یورینیم کی افزودگی، خطے میں اثر و رسوخ کے لیے مختلف گروہوں کی حمایت، اور میزائل پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والا پہلا براہ راست مذاکراتی دور کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا تھا، جس کے باعث آئندہ مرحلے کو نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک بظاہر مذاکرات کی طرف مائل ہیں، مگر باہمی اعتماد کی کمی اور بنیادی اختلافات اب بھی کسی بڑے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
