واشنگٹن: متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم عالمی گزرگاہ پر کسی ایک ملک کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے۔
واشنگٹن میں منعقدہ ایک بین الاقوامی معاشی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اماراتی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے کہا کہ بین الاقوامی آبی راستے مشترکہ مفاد ہوتے ہیں اور ان تک رسائی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی سپلائی گزرتی ہے، اس کے علاوہ یہ دیگر اہم تجارتی اشیاء کی نقل و حمل کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
ایران کے حملوں کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ یو اے ای کی کمیونٹی نے ثابت کیا ہے کہ ملک نے ایسا طرز زندگی اپنایا ہے جو نہ صرف خوشحالی بلکہ سلامتی بھی فراہم کرتا ہے، جو اماراتی قیادت اور قومی عزم کا مظہر ہے۔
اماراتی وزیر نے اس موقع پر امریکا میں آئندہ 10 سال کے دوران 1.4 ٹریلین ڈالر کی مزید سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے اور حالیہ علاقائی کشیدگی نے اس تعلق کو مزید مستحکم کیا ہے۔
ان کے مطابق یو اے ای پہلے ہی امریکی معیشت میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے، جبکہ آئندہ دہائی میں مزید بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کا یہ مؤقف نہ صرف عالمی تجارتی مفادات کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک متوازن سفارتی حکمت عملی بھی ظاہر کرتا ہے۔

Add A Comment