صنعا: حوثی گروپ نے ایک اہم سمندری گزرگاہ آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے خطے میں امن کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ اس اسٹریٹجک گزرگاہ کو بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر باب المندب کو بند کیا گیا تو اسے دوبارہ کھلوانا “کسی بھی طاقت کے بس میں نہیں ہوگا”، جو اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تیل اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوئی تو نہ صرف عالمی تجارت متاثر ہوگی بلکہ تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑیں گے۔
حوثیوں کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ فوری سفارتی اقدامات کے ذریعے صورتحال کو کنٹرول کرے۔

Add A Comment