پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے امریکا کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی اور حالیہ کارروائیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کو دباؤ، دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کے ذریعے غیر منطقی مطالبات ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر دباؤ ڈالنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینے کے مترادف بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حکمتِ عملی کسی بھی صورت مسائل کا حل نہیں بلکہ حالات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
ایرانی سفیر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ موجودہ صورتحال میں سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور دوسری طرف مذاکرات کی بات کی جائے، یہ ایک تضاد ہے جو کسی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا۔
رضا امیری مقدم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جب تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رہے گی، اختلافات ختم نہیں ہوں گے اور خطے میں استحکام کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور یکطرفہ اقدامات سے گریز کریں۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکا نے ایک ایرانی بحری جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جس کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس جہاز کو اس وقت روکا گیا جب وہ آبنائے ہرمز میں عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز کے خلاف کارروائی کی گئی اور اسے قبضے میں لے لیا گیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں اپنی پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ضروری تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری طور پر مرتب ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطہ ایک بار پھر غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہو رہا ہے، جہاں ایک طرف سفارتی بیانات جاری ہیں تو دوسری جانب عملی اقدامات کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ اور مؤثر کردار ادا کرے۔
