ایران کی خارجہ پالیسی اور عسکری فیصلہ سازی کے درمیان ہم آہنگی کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے، جس کی بنیاد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ایک بیان اور اس کے بعد سامنے آنے والے متضاد ردعمل پر ہے۔ اس پورے معاملے نے نہ صرف اندرونِ ایران بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، کیونکہ اس کا تعلق ایک نہایت اہم عالمی تجارتی گزرگاہ، یعنی آبنائے ہرمز، سے ہے۔
چند روز قبل وزیر خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر ایک پیغام جاری کیا گیا، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ مخصوص حالات کی تکمیل کے بعد اس اہم سمندری راستے کو کھول دیا گیا ہے۔ اس بیان نے فوری طور پر سیاسی، عسکری اور عوامی حلقوں میں سوالات کو جنم دیا، کیونکہ آبنائے ہرمز کی حیثیت عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی حساس اور کلیدی سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی اعلان کو نہایت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور اسے محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ تصور کیا جاتا ہے۔
بیان سامنے آنے کے فوراً بعد ایران کے مختلف حلقوں میں اس پر ردعمل شروع ہوا۔ کچھ تجزیہ کاروں اور سیاسی شخصیات نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آیا یہ فیصلہ تمام متعلقہ اداروں، خصوصاً اعلیٰ سکیورٹی اداروں اور عسکری قیادت، کے ساتھ مکمل مشاورت کے بعد کیا گیا تھا یا نہیں۔ اسی تناظر میں ایران کی سپریم سکیورٹی ساخت، یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، کا کردار بھی زیر بحث آیا، کیونکہ اس نوعیت کے فیصلے عام طور پر اسی فورم پر طے کیے جاتے ہیں۔
ان سوالات کے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک باضابطہ وضاحت پیش کی۔ انہوں نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اس تاثر کو مسترد کیا کہ وزارت خارجہ کسی بھی اہم معاملے میں خود مختارانہ طور پر اقدام کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ ایک ایسا ادارہ ہے جو ریاستی پالیسی کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرتا ہے اور ہر اہم قدم متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے بعد ہی اٹھایا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی حساس معاملے پر وزارت خارجہ اپنی سفارشات اور تجزیات ضرور پیش کرتی ہے، مگر حتمی فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔
ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر خارجہ کا مذکورہ بیان دراصل ایک وسیع تر سفارتی مفاہمت کا حصہ تھا، جس کا تعلق خطے میں جاری کشیدگی، بالخصوص لبنان کی صورتحال، سے تھا۔ ان کے مطابق ایک ایسا معاہدہ زیر غور تھا جس میں لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے بدلے کچھ مخصوص اقدامات کیے جانے تھے، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق نرمی بھی شامل تھی۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا، جس کی بڑی وجہ بعض فریقین کی جانب سے وعدوں کی عدم پاسداری تھی۔
یہاں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جنگ بندی کے حوالے سے صورتحال توقع کے مطابق مستحکم نہ ہو سکی، جس کے باعث اس سمجھوتے کے تمام پہلوؤں کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہ رہا۔ ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ کا بیان دراصل اس بات کی عکاسی تھا کہ ایران اپنے وعدوں پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتا ہے، بشرطیکہ دیگر فریق بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
دوسری جانب، ایرانی سکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے حکام کی طرف سے یہ وضاحت سامنے آئی کہ آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر نہیں بلکہ محدود اور مشروط انداز میں کھولا گیا تھا۔ اس وضاحت کے مطابق یہ اجازت صرف مخصوص مدت کے لیے تھی اور اس دوران صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی، جبکہ کسی بھی مخالف یا مشتبہ ملک کے جہازوں پر پابندی برقرار رہی۔ اس پورے عمل کی نگرانی ایران کی مسلح افواج کے سپرد تھی، جو پہلے سے طے شدہ راستوں کے تحت اس نقل و حرکت کو کنٹرول کر رہی تھیں۔
اسی دوران، ایران کے اندرونی سیاسی ماحول میں بھی اس معاملے پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔ بعض سیاسی مبصرین اور عوامی شخصیات نے وزیر خارجہ کے بیان کو قبل از وقت یا غیر واضح قرار دیا، جبکہ کچھ حلقوں نے اسے ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ اس تنقید نے اس بحث کو مزید ہوا دی کہ ایران میں خارجہ پالیسی اور عسکری حکمت عملی کے درمیان رابطہ کس حد تک مضبوط ہے۔
اس صورتحال نے ماضی کے ایک واقعے کی یاد بھی تازہ کر دی، جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اپنے ایک بیان پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت انہوں نے خطے میں ہونے والی ایک عسکری کارروائی کے حوالے سے نرم مؤقف اختیار کیا تھا، جس کے بعد انہیں اپنے الفاظ واپس لینے پڑے تھے۔ موجودہ معاملہ بھی اسی نوعیت کا دکھائی دیا، جہاں ایک بیان نے اندرونی سطح پر اختلافات کو نمایاں کر دیا۔
بین الاقوامی میڈیا، خاص طور پر وال اسٹریٹ جرنل، نے بھی اس معاملے کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب سے وابستہ ایک مشیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ عسکری قیادت اس اعلان سے خوش نہیں تھی اور ان کے خیال میں اس طرح کا بیان دینے سے پہلے مکمل مشاورت ضروری تھی۔ یہ تاثر اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ ایران کے اندر مختلف اداروں کے درمیان فیصلہ سازی کا عمل بعض اوقات پیچیدگی کا شکار ہو جاتا ہے۔
بعد ازاں، ایران کے طاقتور عسکری ادارے پاسداران انقلاب کی جانب سے ایک واضح مؤقف سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا کوئی بھی فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک ایران پر عائد پابندیوں اور بحری دباؤ کو ختم نہیں کیا جاتا۔ اس بیان نے یہ واضح کر دیا کہ اس معاملے میں حتمی اختیار عسکری اور سکیورٹی اداروں کے پاس ہی ہے۔
