ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی قیادت خود فریبی کا شکار ہے اور وہ دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی میز پر دباؤ ڈال کر نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے، اور ایران ایسی کسی پیش کش کو قبول نہیں کرے گا جو دھمکیوں یا دباؤ کے تحت کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے میدان میں اپنی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط کیا ہے اور ہر ممکن صورتحال کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ غیر ضروری اور حد سے بڑھے ہوئے مطالبات ترک کرے اور ایرانی عوام کے حقوق کا مکمل احترام کرے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ماضی میں جنگ آزما چکا ہے اور اگر وہ اب بھی یہی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہوگی، کیونکہ اس بحران کا واحد حل سفارت کاری میں ہی مضمر ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے، اور خبردار کیا کہ اگر ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو ایران بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بحری جہاز پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد ایران نے مذاکرات کو امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی تجاویز غیر سنجیدہ اور مطالبات غیر حقیقت پسندانہ ہیں، جبکہ ایران سے جوہری مواد کو بیرون ملک منتقل کرنا کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہا اور نہ ہی اسے قبول کیا جائے گا

Add A Comment