بحرین کی حکومت نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں داخلی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر شہریت کے معاملات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ ایران سے منسلک مبینہ جاسوسی نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جا سکے اور قومی مفادات کے خلاف سرگرم عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
بحرین کے شاہ حماد بن عیسیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں جنہوں نے ریاست کے مفادات کے خلاف کام کیا اور ملکی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کون افراد شہریت کے اہل ہیں اور کون نہیں، اور اسی بنیاد پر فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق حالیہ عرصے میں ایسے کئی افراد کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے جن پر ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے روابط رکھنے اور حساس مقامات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔
شاہ بحرین نے کہا کہ ریاست اس معاملے پر مکمل عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے تاکہ موجودہ حالات کے ممکنہ اثرات سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے ولی عہد کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس عمل کی نگرانی کریں اور دفاعی و معاشی شعبوں میں موجود کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ مہینوں میں قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سالمیت ایک مقدس ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
ادھر بحرینی حکام نے حالیہ دنوں میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر لبنانی تنظیم حزب اللہ کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد نے بیرون ملک روابط استوار کیے، حساس معلومات فراہم کیں اور ایسے اقدامات کیے جن سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلا۔
مزید تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض مشتبہ افراد لبنان جا کر اسلحہ اور تربیت حاصل کرتے رہے اور حزب اللہ کے ارکان سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے ایران سے متعلق مواد اور تصاویر منتقل کیں اور فلاحی سرگرمیوں کے نام پر رقوم جمع کر کے بیرون ملک بھیجیں۔
بحرینی وزارتِ داخلہ کے مطابق مزید پانچ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ایک مشتبہ شخص ملک سے فرار ہو چکا ہے۔ ان تمام افراد پر حساس معلومات بیرون ملک منتقل کرنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
اس سے قبل بھی سیکیورٹی اداروں نے چھ افراد کو گرفتار کیا تھا جو ایسا مواد شائع کرنے میں ملوث تھے جس میں ایران کے حق میں ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا گیا تھا، جبکہ ان پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بحرین کے یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر ریاستیں اپنی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سخت فیصلے کر رہی ہیں

Add A Comment