ایران نے مذاکرات کے دوران ’10 جوہری بم‘ بنانے سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کی باتیں نہ کبھی ایران کی جانب سے پیش کی گئیں اور نہ ہی کسی سفارتی مذاکرات کا حصہ رہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے اپنی سفارتی گفت و شنید میں کبھی ایسے اعداد و شمار یا دعوے پیش نہیں کیے، اور ’10 ایٹم بم‘ سے متعلق جو باتیں کی جا رہی ہیں وہ دراصل مخالف فریق کی قیاس آرائیاں ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ تاثر دینا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، ایران کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ یہ بیانیہ دوسرے فریق کی جانب سے گھڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ ’10 بم‘ کا حساب بھی انہی کے اپنے تجزیوں کا نتیجہ ہے۔
وزارتِ خارجہ ایران کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے بیانات کا مقصد سیاسی دباؤ بڑھانا ہے، جبکہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد ایران نے ایک بار پھر اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی خدشات کو رد کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم اس معاملے پر عالمی سطح پر بحث بدستور جاری ہے۔
