ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سلطنتِ عمان کے فرمانروا ہیثم بن طارق سے اہم ملاقات کی، جس میں آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عباس عراقچی نے اس موقع پر کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی عدم تحفظ کو بڑھا رہی ہے اور خطے میں تقسیم کو ہوا دے رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے ایک ایسا مشترکہ سکیورٹی نظام تشکیل دینا چاہیے جو بیرونی مداخلت سے آزاد ہو اور خطے کے اپنے مفادات کے مطابق ہو۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور اس میں استحکام کو ناگزیر قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان یہ مشاورت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment