لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، البتہ انہوں نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ بالواسطہ سفارتی راستہ اختیار کرے۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے دی گئی بعض رعایتوں کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ مزاحمتی قوت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔
نعیم قاسم نے مذاکرات کے لیے پانچ بنیادی شرائط بھی پیش کیں، جن میں اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ، مقبوضہ علاقوں سے انخلا، قیدیوں کی رہائی، بے گھر افراد کی واپسی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی حکومت کو اندرونی سطح پر مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ قومی مفاد کو مقدم رکھا جا سکے، تاہم ان کی تنظیم کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی اور لبنان کے دفاع کے لیے اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حزب اللہ کا یہ سخت مؤقف خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
