اسلام آباد / تہران / تل ابیب: خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان سخت بیانات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ امریکا کے ممکنہ کردار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مواخذے کے مطالبات کا سامنا کرنے والے صدر کے پاس ایران کو لیکچر دینے کا کوئی جواز نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر کی عوامی مقبولیت محض 18 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی کمزور سیاسی حیثیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم وہ امریکا کے “گرین سگنل” کا انتظار کر رہا ہے۔
انہوں نے ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج دفاعی اور جارحانہ دونوں محاذوں پر مکمل تیاری کر چکی ہیں اور اہداف پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو “پتھر کے زمانے میں دھکیلنے” کے لیے کارروائی کسی بھی وقت شروع کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کے خطرے کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ امریکا کی ممکنہ شمولیت اس بحران کو عالمی سطح پر مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اور خطرناک تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور امن و استحکام پر بھی مرتب ہوں گے
