ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے، جہاں حالیہ بیانات اور سفارتی تعطل نے ممکنہ تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے مؤقف اور بیانات نہ صرف ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ مذاکرات کا عمل کسی واضح سمت میں آگے نہیں بڑھ رہا۔
ایرانی عسکری حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اس کشیدہ ماحول کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے حالیہ گفتگو میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑنے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھا جائے تو امریکہ پر بھروسہ کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس نے مختلف مواقع پر کیے گئے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہیں کی۔ اس تناظر میں انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں اسی طرح تعطل کا شکار رہیں تو حالات کسی بھی وقت بگڑ سکتے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ بیان ایک اہم عسکری ہیڈکوارٹر میں کیے گئے معائنے کے دوران سامنے آیا، جہاں دفاعی تیاریوں اور سکیورٹی امور کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ اس موقع پر متعلقہ عہدیدار نے واضح کیا کہ ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے خود کو تیار رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اپنے دفاع کے لیے سخت اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، مگر موجودہ حالات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی قیادت کی طرف سے بھی سخت اور غیر لچکدار مؤقف سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے دی گئی تجاویز تسلی بخش محسوس نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ایران میں فیصلہ سازی کا مرکز واضح نہیں، جس کی وجہ سے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ بات چیت کس سطح پر کی جائے۔ انہوں نے اس صورتحال کو غیر یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ماحول میں کسی بھی ممکنہ نتیجے کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کا ملک اس کشیدگی میں برتری کی پوزیشن پر ہے اور وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جو ان کے طے کردہ اصولوں اور شرائط پر پورا نہ اترتا ہو۔ ان کے مطابق قومی مفادات اور اتحادی ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک طرف امریکی حکام یہ تاثر دے رہے ہیں کہ فوجی تنازع ایک خاص مرحلے پر ختم ہو چکا ہے، جبکہ دوسری طرف بیانات میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ خطرات اب بھی برقرار ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے قانون ساز ادارے کو بھیجے گئے ایک باضابطہ مراسلے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ جنگ کا مرحلہ اپریل کے اوائل میں اختتام پذیر ہو چکا تھا۔ تاہم اس کے باوجود امریکی صدر کے بیانات اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے، کیونکہ وہ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران ایک مستقل خطرہ ہے اور اس کے خلاف اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے۔
اس صورتحال نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں بلکہ قانونی ماہرین میں بھی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ فوجی کارروائیوں کے لیے آئینی حدود کیا ہیں۔ امریکی صدر نے اس ضمن میں واضح کیا کہ وہ بطور کمانڈر ان چیف اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر بھی اقدامات کر سکتے ہیں۔ ان کا یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا جب وہ قانونی مدت ختم ہو چکی تھی جو فوجی طاقت کے استعمال کو محدود کرتی ہے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عالمی سطح پر امن کی کوششیں کمزور دکھائی دے رہی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل میں نہ تو کوئی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہی دونوں فریقین اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کے لیے تیار ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ امریکہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اس کے اسٹریٹجک مفادات کو فوقیت دی جانی چاہیے۔
خطے کی مجموعی صورتحال بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات کا شکار ہے، اور ایران امریکہ کشیدگی اس میں مزید پیچیدگی پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو نہ صرف براہ راست تصادم کا خطرہ بڑھے گا بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت اور سکیورٹی پر بھی مرتب ہوں گے۔
بین الاقوامی برادری اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور مختلف ممالک دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اور بیانات کی نوعیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ فی الحال کسی بڑی پیش رفت کی امید کم ہے۔ مذاکرات کی بحالی اور اعتماد سازی کے اقدامات ہی اس بحران کو کم کر سکتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں اس کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے ماحول میں جہاں بیانات سخت اور مؤقف غیر لچکدار ہوں، کسی بھی غلط فہمی یا غیر متوقع واقعے کے نتیجے میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بار بار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
