تہران / واشنگٹن: امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے نئی تجاویز پیش کر دی ہیں، جن میں اہم ترین پیشکش آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا کو تجویز دی ہے کہ اگر واشنگٹن حملے روکنے کی ضمانت دے، اقتصادی محاصرہ ختم کرے اور پابندیوں میں نرمی کرے تو تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
ایران نے اپنی نئی تجاویز میں واضح کیا ہے کہ جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات بعد میں کیے جا سکتے ہیں، تاہم فوری طور پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور دباؤ میں کمی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجاویز پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان تجاویز سے مکمل طور پر مطمئن نہیں اور انہیں یقین نہیں کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے گا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو دھمکی آمیز لہجہ اور توسیع پسندانہ رویہ ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی ہیں۔
عباس عراقچی نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، عراق اور آذر بائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطوں میں کہا کہ ایران سفارتکاری کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے اور مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ عباس عراقچی 24 اپریل کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے جہاں انہوں نے اعلیٰ حکام سے مختلف امور پر بات چیت کی۔ پاکستان کے دورے کے بعد وہ عمان گئے، جہاں قیادت سے ملاقاتیں کیں، جبکہ بعد ازاں انہوں نے روس کا دورہ بھی کیا اور وہاں روسی صدر سے ملاقات کی۔
یاد رہے کہ ایرانی وفد کے پاکستان سے روانہ ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکی وفد کے مجوزہ دورہ پاکستان کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ مذاکرات اگر ہوئے تو فون پر بھی ممکن ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی نئی تجاویز سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم حتمی پیشرفت کا انحصار امریکا کے ردعمل پر ہوگا۔
