تہران: عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اپنا دھمکی آمیز لہجہ تبدیل کرے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ سفارتی حل کا حامی رہا ہے، لیکن دباؤ اور دھمکیوں کے تحت کسی بھی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق بامعنی مذاکرات صرف برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ملک کے دفاع کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ قومی سلامتی اور خودمختاری پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جنگ بندی معاہدے سے متعلق نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی گئی ہیں، جو خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے ضروری ہے کہ تمام فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کو برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھائیں، کیونکہ کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں۔
