تہران/واشنگٹن: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا کی کسی بھی قسم کی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے معاملات کسی کی بیان بازی یا فریب پر مبنی دعوؤں سے نہیں چل سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حساس خطے میں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا یکطرفہ اقدام ناقابل قبول ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس جیسے اہم سمندری راستوں کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے اور یہاں بیان بازی کی کوئی گنجائش نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ “پراجیکٹ فریڈم” کا آغاز مشرقِ وسطیٰ کے وقت کے مطابق آج صبح سے کیا جائے گا، جس کے تحت غیر جانبدار ممالک کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے
