واشنگٹن: امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے بہتر اور مستحکم تعلقات قائم کرنا امریکا کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور چین کے درمیان تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط قائم ہو رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین عالمی صورتحال، ایران اور وینزویلا کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اہم خطوں میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل توجہ دے رہی ہیں۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ فوجی اعتبار سے ایران اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس سے قبل واشنگٹن میں ایک بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت کو ریلیف ملے گا۔
اپنی ذاتی صحت اور توانائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ آج بھی خود کو ویسا ہی محسوس کرتے ہیں جیسا 25 سال پہلے کرتے تھے، اور وہ بھرپور انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔امریکی صدر زی جن پنگ نے مزید کہا کہ وہ چین کے صدرسے ملاقات کے منتظر ہیں اور جلد چین کا دورہ بھی متوقع ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری نہ صرف عالمی سیاست بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کے مسائل دنیا کے لیے بڑے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
