اسلام آباد: پاکستان کی قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے دوسرے مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے بڑی بولی لگاتے ہوئے 115 ارب روپے کی پیشکش کی، جس نے مقابلے میں موجود لکی کنسورشیم اور ایئر بلو کو پیچھے چھوڑ دیا۔ لکی کنسورشیم نے پی آئی اے کے لیے 101 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی لگائی جبکہ ایئر بلو نے 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی دی۔
مشیر نجکاری کمیشن محمد علی نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور حکومت چاہتی ہے کہ پی آئی اے ماضی کی طرح بہتر اور مسابقتی ائیر لائن بنے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے قومی ائیر لائن کے 51 سے 100 فیصد شیئرز کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے، اور کچھ بڈرز چاہتے تھے کہ وہ صرف 75 فیصد شیئرز خریدیں۔
محمد علی نے مزید کہا کہ اس مرحلے میں 75 فیصد شیئرز کی بولی مکمل کی گئی، جبکہ باقی 25 فیصد شیئرز کے لیے 90 دن کے اندر معاملات طے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بولی کی ادائیگی دو تہائی ابتدائی طور پر اور باقی ایک تہائی بعد میں کی جائے گی، اور بڈرز کو بولی کے بعد دو پارٹیز کو شامل کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
مشیر نجکاری نے کہا کہ بولی سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد حصہ پی آئی اے کی بہتری اور اپ گریڈیشن پر خرچ کیا جائے گا، جس سے ائیر لائن کی طرز عمل اور سروس کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی یہ نجکاری ملکی ایوی ایشن سیکٹر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھولے گی، اور حکومت کی یہ کوشش ہے کہ قومی ائیر لائن کو مالی طور پر مستحکم اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا جائے۔
