وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کو 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے مشروط کردیا ہے۔نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر عمران خان صدق دل سےمعافی مانگ لیں تو ان کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر عدالت عمران خان کو رہا کرتی ہے تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کو حکومت نے نظر بند نہیں کیا ہوا ہے، بلکہ وہ اپنے مقدمات کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اپنی ضمانت ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے کروا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنا عمران خان کی رہائی کے لیے ایک اہم شرط ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر عمران خان صدق دل سے معافی مانگ لیں تو ان کے خلاف چلنے والے مقدمات میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد کسی کو تنگ کرنا نہیں ہے، بلکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ حکومت عدالتی عمل میں مداخلت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت عمران خان کو رہا کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جیل میں رکھنے کا فیصلہ حکومت کا نہیں، بلکہ عدالت کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی ضمانت کے لیے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا رخ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت انہیں ضمانت پر رہا کرتی ہے تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔رانا ثنااللہ کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں تازہ بحث چھیڑ دی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو بغیر کسی شرط کے رہا کیا جانا چاہیے، جبکہ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
رانا ثنااللہ کے بیان نے عمران خان کی رہائی کے امکانات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگر عمران خان 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگتے ہیں تو ان کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کے مقدمات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کا اگلا قدم کیا ہوگا اور کیا وہ معافی مانگ کر اپنی رہائی کو ممکن بنائیں گے
