پاکستانی خواتین کے لیے خلیجی ممالک میں روزگار کے نئے دروازے کھلنے لگے ہیں، اور اب خوبصورتی اور ذاتی نگہداشت کے شعبے میں تربیت یافتہ بیوٹیشنز کو سعودی عرب بھجوانے کی باضابطہ تیاری کی جا رہی ہے۔
یہ اقدام نہ صرف پاکستان کے سکلڈ ورکرز کی بیرون ملک مانگ کا ثبوت ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات میں بھی نئی جہت کا اضافہ ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن، جو کہ وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے تحت کام کرنے والا اہم ادارہ ہے، نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی ایک نجی فرم نے پاکستان سے خواتین بیوٹیشنز کی بھرتی کی باضابطہ درخواست دی ہے۔ ادارے کے مطابق اس فرم کو متعدد ذیلی شعبہ جات میں مہارت رکھنے والی خواتین درکار ہیں۔
درخواست میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین بیوٹیشنز کی وہی درخواست دہندہ اہل ہوں گی جو ہیئر کٹنگ، میک اپ، آئی لیش ایکسٹینشن، نیل آرٹ، ویکسنگ، بلیچنگ اور وگ تیار کرنے جیسے ہنر میں ماہر ہوں۔ ملازمت کے لیے درخواست دینے والی خواتین کی عمر 40 برس سے کم ہونا لازمی ہے، اور کم از کم تین سال کا تجربہ بھی شرط ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب میں بیوٹی اینڈ پرسنل کیئر انڈسٹری کے لیے پاکستان سے خواتین ملازمین کا باقاعدہ انتخاب کیا جا رہا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے مابین ورک فورس ایکسپورٹ کے ایک نئے باب کی شروعات ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں پاکستان سے زیادہ تر سکلڈ ورکرز کا تعلق صحت، انجینئرنگ اور ٹیکنیکل فیلڈز سے رہا ہے، جن کی سعودی عرب میں مانگ مسلسل موجود ہے۔
سرکاری ادارے نے مزید بتایا کہ منتخب ہونے والی خواتین بیوٹیشنز کو سعودی نجی فرم کی جانب سے ماہانہ 3,000 سعودی ریال تنخواہ دی جائے گی جو تقریباً 800 امریکی ڈالرز بنتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کی طرف سے رہائش، دو وقت کا کھانا، اور واپسی سمیت ہوائی سفر کے اخراجات بھی برداشت کیے جائیں گے، جو کہ ملازمت کے خواہشمندوں کے لیے ایک پرکشش پیکیج ہے۔
اس اقدام کو بیرون ملک پاکستانی ورک فورس کے لیے نہایت مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت سعودی عرب میں 27 لاکھ سے زائد پاکستانی شہری مختلف شعبہ جات میں کام کر رہے ہیں، اور ہر ماہ وطن عزیز کو تقریباً 700 ملین ڈالرز زرِ مبادلہ کی صورت میں ترسیلاتِ زر کی مد میں بھیج رہے ہیں، جو کہ قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
بیوٹی انڈسٹری میں پاکستانی خواتین کی یہ شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں سکلڈ ورکرز کی طلب بڑھ رہی ہے اور پاکستان کی فنی مہارت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ مواقع پاکستانی خواتین کو خود مختاری اور بین الاقوامی روزگار کے میدان میں قدم جمانے کا موقع فراہم کریں گے۔
