یہ گاڑیاں ہائی پریشر مشین کے ذریعے پانی کی بہت باریک بوندوں کو فضا میں پھینکتی ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہوا میں معلق آلودہ ذرات بوندوں سے چپک جائیں اور نیچے زمین پر بیٹھ جائیں یوں لوکل سطح پر ائیر کوالٹی انڈیکس میں کچھ بہتری آ جائے۔
پاکستان میں لاہور کے مختلف علاقوں میں چلتی ان گنز سے ایک تاثر یہ ابھرنا شروع ہوگیا ہے کہ اہل لاہور کو سموگ کا علاج مل گیا ہے اور فضائی آلودگی اب ختم سمجھو، کیا واقعی ایسا ہے؟ اس کا جواب کچھ ماہرین نے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گنز مقامی سطح پر وقتی طور پر ہوا کو کچھ حد تک صاف کر سکتی ہیں جیسے کسی سڑک یا مارکیٹ کے قریب۔ یہ گاڑیاں صرف تھوڑی دیر اور چھوٹے علاقے میں اثر ڈالتی ہیں، پورے شہر پر نہیں۔
سموگ فضاء کے بڑے حصے میں معلق ہوتی ہے، جسے صرف چند گاڑیوں سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اخراج کے اصل ذرائع (گاڑیاں، بھٹے، فصلوں کی آگ، صنعتوں) پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتیں۔
پاکستان اور بھارت کے ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف “ڈیمونسٹریشن یا دکھاوے” کا زیادہ اثر رکھتی ہیں۔ ان سے عملی طور پر خاطر خواہ فرق نہیں پڑتا، خاص طور پر جب پورا شہر سموگ میں ڈوبا ہو۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے پانی کا ضیاع بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب فضا میں نمی زیادہ ہو۔
2018 میں پہلی بار “Fog Cannon / Anti Smog Gun” دہلی میں آزمائی گئی۔ 2020 کے بعد اسے سرکاری پالیسی کا حصہ بنایا گیا۔ دہلی حکومت نے تعمیراتی سائٹس، مین شاہراہوں اور مارکیٹوں میں سینکڑوں اینٹی سموگ گنز نصب کیں۔ کئی جگہ موو ایبل گاڑیاں بھی چلائی گئیں۔
دہلی حکومت کی توقعات تھیں کہ ہوا میں موجود آلودگی کی مقدار فوری کم ہوگی۔ عوام کو سانس لینے میں وقتی ریلیف ملے گا۔ AQI میں فوری بہتری آئے گی۔ بین الاقوامی سطح پر یہ دکھایا جا سکے گا کہ حکومت ایکشن لے رہی ہے۔
لیکن اس سے دہلی حکومت کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا، گن چلانے کے چند گھنٹے بعد لوکل سطح پر AQI میں 10–20 پوائنٹس بہتری دیکھی گئی۔ مگر چند گھنٹے بعد آلودگی واپس اسی سطح پر آ گئی۔
پورے شہر کی مجموعی ہوا میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ ایک گن کی قیمت لاکھوں روپے میں ہے۔ فی دن آپریشن کا خرچ بھی کافی تھا (پانی + اسٹاف + فیول)۔ دہلی میں رپورٹ کے مطابق کئی مشینیں کچھ مہینوں میں خراب ہو گئیں یا غیر فعال ہو گئیں۔
اس کا فائدہ صرف مخصوص جگہوں جیسے تعمیراتی سائٹس اور شاہراہوں پر دھول کم کرنے میں ہوا۔ تعمیراتی سائٹس اور شاہراہوں پر دھول کم کرنے میں فائدہ ہوا۔ لیکن سموگ جو بڑے پیمانے پر فضاء میں پھیلی تھی، اس پر کوئی قابو نہیں پایا جا سکا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تجربے کے مطابق اس کا فائدہ صرف مخصوص جگہوں جیسے تعمیراتی سائٹس اور شاہراہوں پر دھول کم کرنے میں ہوا۔ لیکن سموگ جو بڑے پیمانے پر فضاء میں پھیلی تھی، اس پر کوئی قابو نہیں پایا جا سکا۔
