آزاد جموں و کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے منگل کے روز صدر ہاؤس مظفرآباد میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پارٹی رہنما فریال تالپور، اراکینِ اسمبلی، مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود، سرکاری شخصیات اور اہم سماجی رہنماؤں نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کے دوران صدر آزاد کشمیر علالت کے باعث شریک نہ ہوسکے، جس پر اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے نومنتخب وزیراعظم سے حلف لیا۔
فیصل ممتاز راٹھور گزشتہ روز سابق وزیراعظم چوہدری انور الحق کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے بعد واضح اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انہیں 36 ووٹ ملے جبکہ ان کے خلاف صرف 2 ووٹ ڈالے گئے، جس کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر آزاد کشمیر میں اپنی سیاسی برتری ثابت کردی۔ پیپلز پارٹی نے پہلے ہی 38 اراکین کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا، جس کا عملی اظہار ایوان میں دیکھنے میں آیا۔
حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے پارٹی قیادت اور اتحادیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ راٹھور خاندان پر تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا اعتماد کرنا پیپلز پارٹی کی قیادت کا بھرپور اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1975 میں ان کے والد ممتاز حسین راٹھور کو کابینہ میں شامل کیا، پھر شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے 1990 میں انہیں وزیراعظم نامزد کیا، اور آج 2025 میں انہیں وزارتِ عظمیٰ کا اعزاز ملا ہے، جو ان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔
وزیراعظم فیصل راٹھور نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ آزاد جموں و کشمیر پوری وادیٴ کشمیر کی آزادی کا بیس کیمپ ہے اور ان کی حکومت تحریکِ آزادی کشمیر کی سیاسی اور سفارتی حمایت مزید مضبوط کرے گی۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول پر موجود پاکستانی افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا اور تحریک آزادی کے شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی۔
تقریب سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ٹیلیفون پر فیصل ممتاز راٹھور کو دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی ترقی، خوشحالی اور امن و استحکام وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وفاق آزاد کشمیر کی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔
فیصل ممتاز راٹھور کا شمار آزاد کشمیر کے قدیم اور بااثر سیاسی خاندانوں میں ہوتا ہے۔ ان کے والد ممتاز حسین راٹھور آزاد کشمیر کے وزیراعظم، اسپیکر اور قائدِ حزبِ اختلاف رہ چکے ہیں، جبکہ ان کی والدہ بیگم فرحت راٹھور بھی رکنِ اسمبلی و پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر رہی ہیں۔ فیصل راٹھور پہلی بار 2011 میں قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیر اکلاس و وزیر برقیات کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2021 کے انتخابات میں دوسری بار کامیابی کے بعد انہوں نے ایوان میں ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور بعدازاں چوہدری انور الحق کی مخلوط حکومت میں وزیر لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں۔
اپنی بردباری، اعتدال پسندانہ سیاست اور بے داغ کردار کے باعث فیصل ممتاز راٹھور کو نہ صرف سیاسی و عسکری حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے بلکہ عوامی ایکشن کمیٹی سمیت مختلف طبقات میں بھی ان کی ساکھ مضبوط رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت انہیں بلاول بھٹو اور فریال تالپور کا بااعتماد ساتھی قرار دیتی ہے، جبکہ وہ پارٹی کے نظریاتی اور متوسط طبقے کی نمائندگی کرنے والے رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
نومنتخب وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ان کی حکومت گڈ گورننس، ترقیاتی منصوبوں کی شفاف نگرانی، عوامی حقوق کے تحفظ اور کشمیر کاز کے فروغ کو اولین ترجیح دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسی حکومت قائم کریں گے جو عوام کے اعتماد پر پورا اترے اور آزاد کشمیر کو ترقی، استحکام اور شفافیت کی نئی مثال بنا دے۔
