کنگ سلمان ریلیف سینٹر نے پاکستان میں کمزور اور پسماندہ گھرانوں کی معاشی بحالی کے لیے شروع کیے گئے بڑے فلاحی منصوبے مویشیوں کی فراہمی کے ذریعے معاشی بااختیاری کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ منصوبہ خاص طور پر خیبر پختونخوا کے ان دور افتادہ علاقوں کے لیے تشکیل دیا گیا تھا جہاں کے باسی آفات، موسمی تبدیلی، معاشی کمزوری اور محدود روزگار کے شدید مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ منصوبے کا بنیادی مقصد ایسے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے جو متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد کے ساتھ ساتھ دیرپا معاشی استحکام بھی فراہم کریں۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں لوئر چترال، اپر چترال، لوئر دیر اور اپر دیر کے ایک ہزار مستحق گھرانوں میں دو بکریاں، چار بیگ سائیلج، اور لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی عملی تربیت پر مشتمل خصوصی روزگار پیکیج تقسیم کیا گیا۔ اس مرحلے سے مجموعی طور پر 7,250 افراد نے براہِ راست فائدہ حاصل کیا۔ یہ اقدام کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے محکمہ ریلیف و بحالی خیبر پختونخوا، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سماجی تنظیم ’پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن‘ کے تعاون سے مکمل کیا۔
یہ منصوبہ کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے اس وسیع عالمی انسانی مشن کا حصہ ہے جو وہ پاکستان سمیت دنیا کے درجنوں ممالک میں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان میں ادارہ پہلے ہی سیلاب متاثرین کی بحالی، ہنگامی خوراک کی فراہمی، شیلٹر پروگرام، طبی امداد، پولیو مہمات، صحت عامہ، اور یتیم بچوں کے کفالت پروگرام جیسے درجنوں منصوبے کامیابی سے چلا چکا ہے۔ عالمی سطح پر بھی یہ ادارہ یمن، شام، سوڈان، لبنان، بنگلہ دیش، صومالیہ اور افریقہ کے مختلف ممالک میں خوراک، پناہ گاہ، صحت، تعلیم اور روزگار کے بڑے منصوبوں کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔
پہلے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ ہی پروگرام اب اپنے دوسرے اور تیسرے مراحل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں سوات، صوابی، ہری پور اور مانسہرہ کے مستحق خاندانوں کو "پولٹری پیکیج” فراہم کیا جائے گا، جس میں 25 مرغیاں، پولٹری ہاؤسنگ کٹ اور مکمل پولٹری مینجمنٹ ٹریننگ شامل ہو گی تاکہ یہ گھرانے مستقل آمدنی کے قابل بن سکیں۔
تیسرے مرحلے میں چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کے کمزور گھرانوں کو گائیں، سائیلج اور ڈیری مینجمنٹ کی عملی تربیت دی جائے گی، جس سے ان کی معاشی حالت مزید مضبوط ہوگی۔ کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے مطابق یہ مرحلہ وار اقدامات نہ صرف ان خاندانوں کی معاشی خود انحصاری، بہتر غذائیت اور روزگار کی پائیداری کو فروغ دیں گے بلکہ خیبر پختونخوا کی دیہی معیشت کے لیے ایک مضبوط معاشی ڈھانچے کی بنیاد بھی ثابت ہوں گے۔
متوقع طور پر یہ منصوبہ آئندہ برسوں میں متاثرہ خطوں میں مستقل آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنے، غربت میں کمی لانے اور دیہی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔
