اسلام آباد: پاکستان میں یورپی یونین کے نئےسفیر رائمونڈس کاروبلس نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا فیصلہ خالصتاً عدلیہ کا اختیار ہے، اور یورپی یونین اس قانونی عمل میں کسی سیاسی رائے یا مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا یہ مؤقف بجا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی صورت دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، اور اس حوالے سے کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستان کے سیکیورٹی خدشات حقیقت پر مبنی اور بالکل جائز ہیں۔
سفیر رائمونڈس کاروبلس نے کہا کہ افغان طالبان کے دوحہ معاہدے کی عملداری پر کسی حتمی تجزیے کے لیے مزید ٹھوس معلومات درکار ہیں، تاہم ترکیہ کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تسلسل خطے کے امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہے اور اس عمل کو جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی ترمیم پاکستان کا مکمل داخلی معاملہ ہے، جس میں کسی بیرونی فریق کے کردار کی گنجائش نہیں۔
یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ پاکستان خطے میں سیکیورٹی چیلنجز، دہشت گردی کے خطرات اور افغانستان کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بین الاقوامی برادری کے ساتھ سفارتی روابط مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور یورپی یونین پاکستان کے ساتھ تعاون کو مستحکم دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سیاسی اور سیکیورٹی مسائل کا دیرپا حل صرف جامع مکالمے، علاقائی تعاون اور مؤثر سفارتی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔
