پاکستان نے شمسی توانائی کے نیٹ میٹرنگ سسٹم کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کا اعتراف کیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ بڑھتی ہوئی شمسی پیداوار کے باوجود قومی گرڈ پر منفی اثرات نہیں پڑے۔ ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے سی ای او ریحان اختر نے نیپرا کے سامنے بیان دیا کہ شمسی توانائی کی پیداوار بڑھ رہی ہے، لیکن اس کا گرڈ پر کوئی اہم اثر نہیں پڑ رہا۔” انہوں نے مزید کہا کہ صارفین اب سولر کی دستیابی کی وجہ سے زیادہ بجلی استعمال کر رہے ہیں، تاہم قومی گرڈ سے ان کی کھپت تقریباً مستحکم ہے۔
یہ بیان جنوری 2026 سے پاور پرچیز پرائس (پی پی پی) میں ممکنہ ترامیم پر نیپرا میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ سی پی پی اے نے پانچ مختلف منظرناموں کے تحت اوسط پاور پرچیز پرائس 25.95 روپے فی یونٹ سے 26.53 روپے فی یونٹ تک رکھنے کی سفارش کی، جبکہ موجودہ مالی سال کے لیے پاور پرچیز پرائس 25.98 روپے فی یونٹ ہے، جو استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
نیٹ میٹرنگ کی شراکت 2023 کے 26 کروڑ 60 لاکھ یونٹس سے بڑھ کر 2024 میں 72 کروڑ 60 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی، یعنی 173 فیصد اضافہ، جبکہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی مجموعی نمو صرف ایک فیصد رہی۔ دوسری جانب، کے الیکٹرک کے گرڈ کی کھپت میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ اس نے مکمل 2 ہزار 50 میگاواٹ کی کھپت شروع کی۔
ریحان اختر نے یہ بھی بتایا کہ ایندھن کی قیمتیں عام طور پر مستحکم رہیں گی اور بدترین صورت میں عالمی قیمتوں میں صرف پانچ فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ مقامی کرنسی کے اگلے سال کے پہلے 6 ماہ میں 10 روپے اور دوسرے 6 ماہ میں 10 روپے اضافے کا امکان ہے۔ صنعتی صارفین نے مہنگی توانائی کی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی، کیونکہ یہ ان کی مصنوعات کو غیر مسابقتی بنا رہی ہیں، اور صنعت اب بھی دیگر صارفین کے لیے 131 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شمسی توانائی کی بڑھتی ہوئی پیداوار، نیٹ میٹرنگ کے ذریعے، قومی گرڈ کے لیے بوجھ نہیں بن رہی اور توانائی کے نظام میں استحکام کے لیے مثبت اثر ڈال رہی ہے، جبکہ حکومت اور نیپرا مستقبل کی ضروریات اور ٹیرف کی ممکنہ ترامیم پر غور کر رہے ہیں۔
