پاکستان اس وقت ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں موسمیاتی خطرات پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو چکے ہیں۔ ماہرین اور متعلقہ ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ 2026 کا مون سون حالیہ برسوں میں سب سے تباہ کن موسم باراں ثابت ہو سکتا ہے۔ اندازے بتاتے ہیں کہ آئندہ سال ہونے والی بارشیں اس سال کے مقابلے میں 22 سے 26 فیصد تک زیادہ ہوں گی۔ صرف یہ پیشن گوئی ہی تشویش پیدا کرنے کے لیے کافی ہے، لیکن اصل خطرہ اس وقت کہیں بڑھ جاتا ہے جب غیر معمولی بارشوں کو خطے میں بڑھتی ہوئی گرمی سے جوڑا جاتا ہے۔
ملک کی کمزوریاں اب پہلے سے زیادہ نمایاں ہیں۔ مختصر سردیاں، اور اس کے بعد طویل اور شدید گرمیوں نے شمالی پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار کو غیر معمولی طور پر تیز کر دیا ہے۔ پاکستان کے پاس 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز ہیں — جو قطبی علاقوں کے بعد دنیا کی سب سے بڑی تعداد میں سے ایک ہے — اور ان میں سے بے شمار اب پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث ان گلیشیئرز سے نئی جھیلیں بنتی ہیں، جن میں سے متعدد انتہائی غیر مستحکم ہیں۔ جب ایسی کوئی جھیل ٹوٹتی ہے تو چند منٹوں میں پوری بستیوں کو بہا لے جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویوز ایسے حالات پیدا کر رہی ہیں جن میں اس طرح کے اچانک اور تباہ کن سیلابوں کے امکانات بہت بڑھ چکے ہیں۔
اس بحران کا انسانی پہلو بھی انتہائی سنگین ہے۔ گزشتہ بڑے سیلابوں میں ہزاروں افراد جان سے گئے جبکہ لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے۔ ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ بہت سے خاندان جو برسوں کی محنت سے اپنے گھر بنا پاتے ہیں، اُن کے وہ مکانات ایک ہی رات میں دریا برد ہو گئے۔ صرف سامان ہی نہیں، اُن کی زندگی بھر کی کمائی، یادیں، رشتے — سب کچھ پانی میں ڈوب گیا۔ ان میں سے کئی آج بھی اُس صدمے سے باہر نہیں نکل سکے۔
اقتصادی لحاظ سے بھی نقصان ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ صرف 2022 کے تباہ کن سیلابوں میں ملک کی معیشت کو اتنا نقصان پہنچا جو قومی GDP کے تقریباً نو فیصد کے برابر تھا — یہ ایسے ملک کے لیے شدید دھچکا ہے جس کی اقتصادی ترقی عام طور پر پانچ فیصد سے بھی کم رہتی ہے۔ فصلیں ملیا میٹ ہو گئیں، لاکھوں مویشی بہہ گئے، سڑکیں، پل، اسکول، اسپتال، سب کچھ نقصان کا شکار ہوا۔ ایسے حالات میں معیشت کی وہ رفتار جو برسوں کی محنت سے اوپر اٹھتی ہے، ایک ہی موسم میں دوبارہ نیچے گر جاتی ہے۔ یہ بار بار تعمیر کرنے اور پھر تباہ ہونے کا سلسلہ لوگوں کے لیے ذہنی اور مالی لحاظ سے نہایت تکلیف دہ بن چکا ہے۔
صورتحال کی سنگینی دیکھتے ہوئے ملکی قیادت نے ہنگامی تیاریوں کا ایک جامع منصوبہ منظور کیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں وفاقی اور صوبائی ادارے اُن کمزور ترین علاقوں کو مضبوط کرنے پر توجہ دیں گے جہاں حالیہ سیلابوں نے سب سے زیادہ تباہی مچائی۔ ٹوٹے ہوئے پل، بہہ جانے والے حفاظتی بند، اور خراب ہونے والے پانی کے راستے تیزی سے مرمت کیے جا رہے ہیں تاکہ آئندہ بارشوں میں پانی شہروں اور بستیوں کا رخ نہ کرے۔
ایک بڑی اصلاح قبل از وقت وارننگ سسٹم میں کی جا رہی ہے۔ اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ابتدائی الرٹ سب سے پہلے تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول پر جاری کیا جائے گا، یعنی سب سے پہلا سگنل متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر تک پہنچے گا۔ اس تبدیلی سے وہ خطرناک وقت کا خلا ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو پہلے پیش گوئی اور اصل کارروائی کے درمیان حائل رہتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر مقامی ٹیمیں چند منٹ یا چند گھنٹے پہلے حرکت میں آجائیں تو بے شمار جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
300 روزہ منصوبے میں دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔ موبائل اسپتال سیلابی علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے تاکہ فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ عارضی اسکول قائم کیے جائیں گے تاکہ بچوں کی تعلیم مہینوں تک متاثر نہ ہو۔ خوراک، صاف پانی، خیموں، ادویات اور مچھروں کے کنٹرول کے لیے خصوصی کٹس کے ذخائر تیار کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر اُن علاقوں کے لیے جو پہلے ہی سے غربت، کمزور انفراسٹرکچر یا پسماندگی کے باعث سب سے زیادہ خطرے میں رہتے ہیں۔
ساتھ ہی حکام اس حقیقت کا اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ ہنگامی اقدامات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی مزاحمت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل رہا ہے جو کلائمٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو سال 2050 تک پاکستان کی معیشت کو مجموعی طور پر 20 فیصد تک کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یعنی یہ مسئلہ صرف مختصر مدت کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ایک شدید خطرہ ہے۔
اسی وجہ سے حکومت ایک ہمہ جہتی لائحہ عمل تیار کر رہی ہے جس میں سیلابی خطرات کے ساتھ ساتھ شہری منصوبہ بندی کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کئی شہروں میں تیزی سے پھیلتی آبادی نے قدرتی نالوں، بارانی راستوں، اور نشیبی علاقوں پر تعمیرات کھڑی کر دی ہیں۔ جہاں نکاسی کا نظام پہلے ہی ناکافی تھا، وہاں بارش کا زیادہ ہونا تباہی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے حل کے لیے نکاسی کے نظام کی مرمت، تجاوزات کا خاتمہ، ندی نالوں کے اطراف درخت اور سبزہ لگانا، اور زوننگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد شامل کیا جا رہا ہے۔
موسمیاتی ماہرین بتاتے ہیں کہ خود مون سون کے اندرونی نظام میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ گرم ہوائیں زیادہ نمی اپنے اندر جذب کر لیتی ہیں، جس کا نتیجہ شدید بارشوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ دوسری طرف تیز گرمی زمین کو اتنا سخت اور خشک کر دیتی ہے کہ وہ پانی کو تیزی سے جذب نہیں کر پاتی، جس کے باعث اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ وہ پیٹرن ہیں جو پہلے اتنی شدت سے موجود نہیں تھے، اسی لیے قدیم ماڈلز اب مکمل طور پر کارآمد نہیں رہے۔
سیاسی سطح پر بھی اس بحث میں شدت آ گئی ہے۔ کئی ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ آفات سے نمٹنے والے اداروں کو واضح اختیارات اور زیادہ مؤثر نگرانی درکار ہے۔ گزشتہ موسمِ باراں کے بعد ناقدین نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا الرٹس بروقت جاری ہوئے؟ کیا عوام تک صحیح معلومات پہنچیں؟ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ موسم کی وارننگز صرف تکنیکی معلومات نہ ہوں بلکہ قابلِ فہم اور قابلِ عمل ہدایات پر مشتمل ہوں۔
شمالی علاقے خصوصی توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ وہاں موجود گلیشیئرز کے ساتھ جڑی جھیلیں دن بدن خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ جھیلیں تو چند سالوں میں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، اور معمولی بارش بھی اُن میں شگاف کا باعث بن سکتی ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اُن جھیلوں کا نقشہ تیار کیا جا رہا ہے، حفاظتی بند مضبوط کیے جا رہے ہیں، اور مقامی لوگوں کو ہنگامی انخلا کی تربیت دی جا رہی ہے۔
لیکن شاید سب سے بڑا چیلنج انفراسٹرکچر نہیں — وقت ہے۔ اگلا مون سون چند ماہ بعد ہی شروع ہونے والا ہے، اور اس سے پہلے دفاعی اقدامات، عملی تربیت، انتظامی اصلاحات، اور عوامی آگاہی جیسے اہم کام مکمل کرنا ضروری ہے۔ اگر پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو موجودہ تیاری ہی طے کرے گی کہ یہ ایک قابو میں آنے والی ہنگامی صورتحال بنے گی یا ایک قومی سانحہ۔
مستقبل کے پاکستان کا انحصار انہی فیصلوں پر ہوگا جو آج کیے جا رہے ہیں — وہ فیصلے جو وقتی مرمت کے بجائے مضبوطی کو ترجیح دیں، جو بروقت وارننگ سسٹم کو قابل اعتماد بنائیں، جو کمزور طبقات کی حفاظت یقینی بنائیں، اور جو سائنس، انتظامیہ اور انسانی مدد کو ایک متحد حکمتِ عملی میں جوڑ دیں۔ آنے والا موسمِ باراں صرف ماحول کا امتحان نہیں لے گا — یہ ملک کی ہمت، نظم، اور اپنے لوگوں کو بچانے کی صلاحیت کا امتحان بھی ہوگا۔
