چکوال میں محکمہ جنگلات نے لکڑی اسمگلنگ کے خلاف تاریخ ساز کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا بلکہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بھاری جرمانہ عائد کرکے ایک اہم مثال بھی قائم کر دی۔ کارروائی اُس وقت ممکن ہوئی جب محکمہ جنگلات کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ ایک بڑے کنٹینر کے ذریعے قیمتی لکڑی اسمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس اطلاع کے بعد جہلم اور چکوال کے ڈویژنل فاریسٹ افسران (DFOs) نے مشترکہ آپریشن کی منصوبہ بندی کی اور ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کنٹینر کا پیچھا کرتے ہوئے اسے چکوال کے قریب روک لیا۔
کنٹینر کی تلاشی کے دوران حکام یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس میں 906.25 مکعب فٹ قیمتی اور ممنوعہ لکڑی موجود تھی، جس میں چیر، کیل اور پرتال جیسی اعلیٰ درجے کی اقسام شامل تھیں۔ یہ وہ لکڑی ہے جو نہ صرف نایاب سمجھی جاتی ہے بلکہ ملک کے جنگلات میں غیر قانونی کٹائی کی بنیادی وجہ بھی بنتی ہے۔ حکام نے فوری طور پر لکڑی کو بحقِ سرکار ضبط کر لیا اور اسمگلنگ میں ملوث شخص کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔
ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کے مطابق ملزم پر 73 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے، جو پاکستان کی تاریخ میں لکڑی اسمگلنگ کے کسی بھی کیس میں لگایا جانے والا سب سے بڑا مالیاتی جرمانہ ہے۔ اس کارروائی نے اسمگلرز کے پورے نیٹ ورک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ محکمہ جنگلات اب کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔
افسران کے مطابق لکڑی کی اسمگلنگ نہ صرف جنگلات کی تیز رفتار تباہی کا سبب ہے بلکہ موسمیاتی تغیرات، زرخیزی کی کمی، اور ماحولیات پر گہرے منفی اثرات بھی مرتب کرتی ہے۔ اس کارروائی کو ماہرین ایک سنگ میل قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے جنگلات کے تحفظ، ماحول کی بہتری اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف حکومتی ارادوں کا بھرپور اظہار سامنے آیا ہے۔
محکمہ جنگلات نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں ایسے آپریشن مزید سخت کیے جائیں گے، نگرانی کا نظام جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، اور جنگلات کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یہ کیس اس بات کی مضبوط مثال ہے کہ مربوط منصوبہ بندی، درست معلومات اور موثر نفاذ کے ذریعے قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہےاور پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی عملداری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
