اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان نے موجودہ سیاسی اور عدالتی صورتحال کے پیشِ نظر کل (بروز جمعہ) ملک بھر میں یومِ سیاہ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ تنظیم کی قیادت کے مطابق اس ملک گیر احتجاج کا مقصد آئینِ پاکستان کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کرنا، عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کرنا اور حالیہ آئینی ترمیم کے خلاف عوامی آواز کو متحد کرنا ہے۔
تحریک کے وائس چیئرمین علامہ ناصر عباس نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ پنجاب کے تمام حلقوں میں نمازِ جمعہ کے فوراً بعد احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، جن میں تحریک کے کارکنان اور ہمدرد کالی پٹیاں باندھ کر اپنی تشویش اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف طبقات میں آئینی بحران کے باعث بے چینی بڑھ رہی ہے، لہٰذا عوام کو اپنے بنیادی حق، آئین کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر سامنے آنا ہوگا۔
علامہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ حالیہ آئینی ترمیم نے نہ صرف عدلیہ کی طاقت میں کمی کی ہے بلکہ عدلیہ کو انتظامیہ کے تابع بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جو عوام کے بنیادی حقوق اور ریاستی توازن پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ”اگر عدلیہ آزاد نہیں رہے گی تو جمہوریت بھی کمزور ہو جائے گی۔ یہ احتجاج اسی خطرے کی نشاندہی ہے۔“
دوسری جانب، تحریک انصاف کی قیادت نے بھی اس احتجاج کی کال کی توثیق کرتے ہوئے اپنے تمام ٹکٹ ہولڈرز، سابق امیدواروں، اور ایم پی ایز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں احتجاج کی قیادت کریں اور عوامی شرکت کو بڑھائیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس دوران کارکنوں کو مکمل پرامن رہتے ہوئے اپنے مطالبات مؤثر انداز میں پیش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یومِ سیاہ کا اعلان موجودہ حکومتی اقدامات کے خلاف بڑھتی ہوئی سیاسی مزاحمت کی علامت ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد جماعتیں اور تنظیمیں عدلیہ کی خودمختاری میں کمی کے معاملے پر ایک مشترکہ موقف اختیار کرنے لگی ہیں۔
تحریک تحفظ آئین کے اعلامیے کے مطابق احتجاج کے دوران آئین کی اصل شکل میں بحالی، عدلیہ کی آزادی کا تحفظ، اور عوامی حقِ رائے دہی کو مضبوط بنانے سے متعلق مطالبات پیش کیے جائیں گے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ”ہماری جدوجہد سیاسی نہیں بلکہ آئینی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں طاقت کا توازن وہی رہے جو آئین نے متعین کیا ہے۔‘‘
ملک بھر میں جمعہ کے روز ہونے والے یہ احتجاجی مظاہرے موجودہ سیاسی ماحول میں ایک اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں، جن کے نتائج ملکی سیاسی منظرنامے پر قابلِ ذکر اثر ڈال سکتے ہیں۔
