اسلام آباد:وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2018 کے سیاسی اور انتظامی حالات کے اصل ذمہ دار سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل (ر)باجوہ کے اقدامات کا احتساب ہونا چاہیے اور ان کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے ملک کے ساتھ جو کچھ کیا، اس کا ٹرائل ناگزیر ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں طرزِ حکمرانی اور نظام میں بہتری آئے گی۔ ترمیم کی منظوری سے قبل مشاورتی مراحل میں بعض شقوں کو ڈرافٹ سے نکال دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی نظام کی مضبوطی سے متعلق تجاویز بھی ترمیمی مسودے کا حصہ تھیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وفاق بیرونی قرضہ لے کر صوبوں پر بھی خرچ کرتا ہے، لہٰذا قرضوں کی واپسی اور دفاعی بجٹ میں صوبوں کو بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے، کیونکہ دفاع صرف اسلام آباد کیلئے نہیں بلکہ پورے پاکستان کیلئے ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بلدیاتی نظام موجود تو ہے لیکن نچلی سطح تک مضبوط نہیں۔ اس کے برعکس آمریت کے ادوار میں بلدیاتی نظام زیادہ فعال رہا۔ ان کے مطابق ہر صوبائی حکومت کی اپنی رکاوٹیں بلدیاتی ڈھانچے کو کمزور رکھتی ہیں، حالانکہ مضبوط بلدیاتی نظام سیاسی جماعتوں کے اپنے مفاد میں ہے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ وزیراعظم محدود وسائل کے باوجود تمام صوبوں کو فنڈز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ججز کے تبادلوں کا اختیار ایگزیکٹو کے پاس نہیں ہے اور آئینی ترامیم کبھی کسی فردِ واحد کیلئے نہیں کی جاتیں۔نواز شریف کی نااہلی پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ساری دنیا مانتی ہے کہ پانامہ میں نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ ان کے مطابق نواز شریف کا کیس نچلی عدالتوں کے بجائے براہِ راست سپریم کورٹ میں چلایا گیا، جو غیر معمولی عمل تھا۔
انہوں نے موجودہ عدالتی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 27ویں ترمیم کے مسودے پر تمام جماعتوں کو مشاورت کیلئے بلایا گیا تھا اور 28ویں ترمیم پر بھی اپوزیشن سمیت سب سے مشاورت کی جائے گی۔خواتین کی بےحرمتی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر خواتین کا احترام ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں سیاسی مخالفین کے ساتھ ظلم ہوا، جس کی مثال مریم نواز کی والدہ کے انتقال کے باوجود ان کی جیل میں موجودگی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی جیل میں نواز شریف سے سیاسی معاملات پر گفتگو نہیں کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے 2006 میں مل کر میثاقِ جمہوریت تشکیل دیا، جس پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے دستخط کیے۔افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ سرحد پار سے حملے آج بھی جاری ہیں۔ وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد کچہری حملے میں ملوث افراد افغانستان سے آئے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کیلئے قطر، چین اور دیگر ممالک کردار ادا کر رہے ہیں، مگر "سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کا افغان حکومت پر اثر و رسوخ ہے
