کراچی میں ٹریفک انتظامیہ نے شہر کے سب سے مصروف کاروباری علاقوں میں غیر قانونی پارکنگ کے خلاف جرمانے لگانے کے لیے ایک جدید قدم اٹھاتے ہوئے “روبوٹ کارز” متعارف کروائیں ہیں۔ یہ خودکار گاڑیاں، جو جدید کیمرہ سسٹمز سے لیس ہیں، غیر قانونی پارکنگ کے خلاف فوری اور خودکار چالان جاری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ٹریفک ایڈمنسٹریشن کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کاشف ندیم نے بتایا کہ اس سسٹم کی تمام تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور اسے سب سے پہلے صدر اور طارق روڈ کے مصروف مارکیٹس میں نافذ کیا جائے گا۔ یہ علاقے ہمیشہ سے پارکنگ کی خلاف ورزیوں اور سڑکوں پر غیر قانونی طور پر گاڑی کھڑی کرنے کی وجہ سے پریشان کن سمجھے جاتے ہیں۔
ڈی ایس پی ندیم کے مطابق یہ روبوٹ کارز تقریباً 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سڑکوں پر حرکت کریں گی اور مسلسل سڑکوں کو اسکین کرتی رہیں گی۔ اگر کوئی گاڑی یا موٹرسائیکل ڈبل پارکنگ میں ہو یا کسی “نو پارکنگ” زون میں رکھی گئی ہو تو یہ خود بخود چالان جاری کریں گی۔ بعد میں یہ نظام اتنا خودکار ہو جائے گا کہ ڈرائیور صرف نگرانی کرے گا اور گاڑی خودکار طور پر ای-چالان جاری کرے گی، بغیر کسی پولیس اہلکار کے براہِ راست مداخلت کے۔
کراچی ٹریفک پولیس پہلے ہی سیف سٹی کیمرہ سسٹمز کے ذریعے نو پارکنگ کی خلاف ورزیوں کے لیے ای-چالان جاری کر رہی تھی، لیکن یہ موبائل روبوٹ یونٹس نگرانی کے عمل کو زیادہ مؤثر اور تیز بنا دیں گی۔ اس وقت نو پارکنگ کی خلاف ورزی پر کاروں کے لیے 10,000 روپے اور موٹرسائیکل کے لیے 2,000 روپے جرمانہ ہے۔ اس نئے نظام کے ذریعے توقع کی جا رہی ہے کہ جرمانے زیادہ شفاف اور خودکار انداز میں جاری ہوں گے، اور شہریوں کے ساتھ براہِ راست تصادم بھی کم ہوگا۔
یہ تمام اقدامات ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائٹیشن سسٹم (TRACS) کے تحت کیے جا رہے ہیں، جسے 27 اکتوبر کو متعارف کرایا گیا تھا۔ اس سسٹم کا مقصد پرانے دستی چالان کے طریقہ کار کی جگہ جدید اور خودکار ای-چالاننگ پلیٹ فارم لانا ہے۔ TRACS میں AI انٹیگریٹڈ CCTV کیمرے شامل ہیں جو نہ صرف غیر قانونی پارکنگ بلکہ رفتار کی حد سے تجاوز، ریڈ لائٹ کی خلاف ورزی، اور ہیلمٹ نہ پہننے جیسے جرائم کو بھی خودکار طور پر شناخت کرتے ہیں۔
تاہم، اس نظام کے آغاز کے بعد شہریوں کی جانب سے متعدد شکایات سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک موٹرسائیکل کے مالک کو اپنی چوری شدہ بائیک کے لیے ای-چالان مل گیا، حالانکہ وہ چار سال پہلے Tipu Sultan پولیس اسٹیشن سے چوری ہو چکی تھی اور ابھی تک بازیاب نہیں ہوئی۔ اسی طرح، ایک اور شہری نے بتایا کہ اسے نو پارکنگ کا چالان موصول ہوا حالانکہ اس نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی تھی، اور تصویر میں دکھائی گئی نمبر پلیٹ اور چالان میں درج نمبر میں فرق تھا۔
اس نظام کے بارے میں ہوٹل مالکان اور کاروباری افراد کے خیالات بھی مخلوط ہیں۔ بعض نے تحفظات ظاہر کیے کہ جرمانے اس وقت بھی لگائے جا رہے ہیں جب گاڑی چوری ہو گئی ہو یا موجود نہ ہو، جبکہ بعض نے کہا کہ وہ جرمانے ادا کرنے کو تیار ہیں اگر حکام پہلے چوری شدہ گاڑی کی واپسی کو یقینی بنائیں۔ یہ ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹریفک قوانین کے نفاذ اور عوامی اعتماد کے درمیان توازن قائم کرنا کتنا اہم ہے۔
ماہرین کے مطابق خودکار نظام کے ذریعے نگرانی کارکردگی بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، مگر اس کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر، درست ڈیٹا اکٹھا کرنا، اور شکایات کے حل کے مؤثر طریقے درکار ہیں۔ کراچی جیسے شہروں میں جہاں سڑکیں تنگ اور پارکنگ کے مسائل زیادہ ہیں، ایسے روبوٹ کیمرہ کارز ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ لیکن کامیاب نفاذ کے لیے AI الگورتھمز کی مستقل بہتری، تکنیکی نقصانات کی نگرانی اور پولیس و شہری انتظامیہ کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
اس سے صرف غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کارروائی ممکن نہیں ہوگی بلکہ TRACS اور اس کے موبائل روبوٹ یونٹس کراچی میں جدید شہری ٹریفک نظم و نسق کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ دنیا کے کئی شہروں نے بھی اسی طرح کے خودکار نظام اپنائے ہیں جن سے ٹریفک کی روانی، قوانین کی پابندی، اور جرمانوں کی وصولی میں بہتری آئی ہے۔
کراچی میں روبوٹ کیمرہ کارز کا آغاز ایک جدید اور خودکار نظام کی طرف بڑا قدم ہے۔ اس کے ذریعے غیر قانونی پارکنگ کی نشاندہی اور جرمانوں کا نفاذ تیز اور شفاف ہو جائے گا۔ تاہم، شہری اور حکومتی تعاون، تکنیکی درستگی، اور مسلسل نگرانی اس نظام کی کامیابی کے لیے لازمی ہیں۔ صدر اور طارق روڈ میں ان کاروں کے آغاز کے بعد دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا یہ ٹیکنالوجی واقعی کراچی کی سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کر سکتی ہے یا نہیں۔
