لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ممکن ہے نچلے لیول پر کرپشن پوری طرح ختم نہ ہوئی ہو، مگر اب ٹاپ لیول پر کرپشن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، وہ گزشتہ روز 27ویں نیشنل ڈیفنس سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے گفتگو کررہی تھیں۔
مریم نواز نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت میں میرٹ کو بنیادی اصول بنایا گیا ہے اور سیاسی بنیادوں پر بھرتی تو دور، کسی ایک سفارش کا ثبوت بھی اُن کے خلاف سامنے آجائے تو وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کھربوں روپے کے جاری بڑے پروجیکٹس کے باوجود کرپشن کی کسی قسم کی شکایت سامنے نہیں آئی، جو حکومتی شفافیت کا ثبوت ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ صوبے میں اصلاحاتی عمل تیزی سے جاری ہے۔ پنجاب میں بہت کچھ کر چکے ہیں اور ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔‘‘* ساتھ ہی انہوں نے اس امر کا ذکر کیا کہ وہ صحافی جو حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں، اُن کی اہلیہ بھی یہ اعتراف کرتی ہیں کہ پنجاب آج پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔
اپنی سیاسی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اُن کے خلاف جلسوں میں رکیک جملے بولے گئے، والد کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا انہیں جیل کی صورت میں ملی، مگر آج حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب مکافاتِ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اخلاقیات کا معیار بلند ہونا چاہیے، الزام لگانے والوں کو ثبوت بھی دینا ہوں گے۔
گالم گلوچ اور الزام تراشی کا جواب ہم کارکردگی کے بیانیے سے دیں گے, انہوں نے زور دیا۔گڈ گورننس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم مسائل کو جنم دیتی ہے، جبکہ احتساب اور جوابدہی کی کمی سے پبلک سیکٹر کی کارکردگی صفر ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خوف اور غصّے کی سیاست میں معاملات درست نہیں چلتے، بیوروکریسی نے ان کے ساتھ مثبت انداز میں کام کیا ہے، اور وہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ کبھی دوسروں پر نہیں ڈالتیں۔ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ آنے والے پانچ برسوں میں پنجاب کرپشن فری صوبہ ہوگا۔
اپنی حکومتی ترجیحات پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ووٹ کھونے کے خوف کے بغیر فیصلے کرنے پڑتے ہیں، تجاوزات کے خاتمے پر کچھ لوگ ناراض بھی ہوئے لیکن عوامی مفاد کو ترجیح دینا ان کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں دنیا کا *سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ پروگرام* شروع کیا جا رہا ہے تاکہ شہروں کو جدید، صاف اور پائیدار نظام فراہم کیا جاسکے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 40 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک آگئی ہے۔ پنجاب میں 2400 میگاواٹ بجلی موجود ہے اور ان کی خواہش ہے کہ بجلی کے نرخ کم کرکے 16 سے 17 روپے فی یونٹ تک لائے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
مریم نواز نے آخر میں کہا کہ گندم نہ خریدنے کے فیصلے پر تنقید ضرور ہوئی، لیکن صوبے کے وسیع تر مفاد میں کیے گئے مشکل فیصلوں کو وقت ثابت کرے گا کہ وہ درست تھے۔
وہ جانتے تھے کہ اگر ہمیں نہ گرایا جاتا تو آج ان کی جگہ نہیں بنتی، انہوں نے سیاسی مخالفین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہایہ خبروزیراعلیٰ پنجاب کے کئی اہم نکات، حکومتی سمت، عوامی ریلیف، گڈ گورننس اور احتساب کی پالیسیوں کا جامع عکاس ہے۔
