لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کے سرکاری اسکولوں کو جدید دور کی تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور روبوٹکس کی تعلیم متعارف کرا دی ہے۔ اس سلسلے میں لاہور کے مختلف سرکاری اسکولوں میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیبز قائم کی گئی ہیں جہاں طلبا کو دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مطابق تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
نئی قائم کردہ اسٹیم (Science, Technology, Engineering & Mathematics) لیبز میں طلبا نہ صرف روبوٹس کی بنیادی ساخت، پروگرامنگ اور آپریشن سیکھ رہے ہیں بلکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بنیادی و عملی تصورات کو بھی سمجھ رہے ہیں۔ ان لیبز میں طلبا کو کوڈنگ، مشین لرننگ، سینسر ٹیکنالوجی، خودکار روبوٹس، اور جدید تخلیقی پروجیکٹس بنانے کی تربیت دی جا رہی ہے، جو انہیں مستقبل کے عالمی روزگار کے معیار سے ہم آہنگ کرے گی۔
محکمہ تعلیم پنجاب کے مطابق یہ منصوبہ بطور پائلٹ لاہور کے منتخب اسکولوں میں شروع کیا گیا تھا، جس کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں۔ طلبا کی بڑھتی ہوئی دلچسپی، کارکردگی میں بہتری اور ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ کو دیکھتے ہوئے اب صوبے بھر میں اے آئی اور روبوٹکس لیبز کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسٹیم لیب کی ماسٹر ٹرینر مریم فاطمہ نے بتایا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد بچوں کو مستقبل کی معیشت میں شامل ہونے کے قابل بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم طلبا کو وہ ہنر سکھا رہے ہیں جن کی آنے والے برسوں میں دنیا بھر میں بڑی مانگ ہوگی۔ یہ ٹیکنالوجیز پاکستان کے نوجوانوں کو نہ صرف جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں گی بلکہ ملکی ترقی میں کلیدی کردار بھی ادا کریں گی۔”
تعلیمی ماہرین کے مطابق پنجاب حکومت کا یہ اقدام روایتی نصاب اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کے ذریعے سرکاری تعلیمی نظام کو نئی سمت دینے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف طلبا کی تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور تکنیکی مہارت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کے تعلیمی ڈھانچے کو عالمی معیار کے قریب لانے میں بھی مدد ملے گی۔
