پشاور: خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق گردش کرتی قیاس آرائیوں نے صوبائی سیاست کا درجہ حرارت بڑھا دیا ہے، اور اس تناؤ کے درمیان پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وفاق کو سخت اور دو ٹوک پیغام دیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں گورنر راج کا نفاذ نہ صرف غیر آئینی ہو گا بلکہ اس کے نتائج بھی ملک کی سیاسی استحکام کے لیے شدید نقصان دہ ہوں گے۔
ایک تفصیلی بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ "کسی میں یہ طاقت یا جرات نہیں کہ خیبرپختونخوا کے عوامی مینڈیٹ پر حملہ کرے۔ صوبے کی منتخب حکومت کے خلاف کوئی بھی غیر آئینی قدم نہ صرف ناکام ہو گا بلکہ اس کے اثرات پورے ملک میں محسوس ہوں گے۔ ہم اپنا دفاع آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پوری مضبوطی سے کریں گے۔”انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی کے اس بیان پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جس میں ان کی جانب سے کے پی میں گورنر راج کے امکان کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اسد قیصر نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اہم اور حساس مسئلے پر اپنی سرکاری پالیسی کی وضاحت کریں۔
ان کے مطابق ایسی بیانات صوبائی سطح پر بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں، اس لیے پارٹی قیادت کو واضح مؤقف دینا چاہیے کہ یہ بیان ذاتی رائے تھا یا جماعت کا نقطۂ نظر۔پی ٹی آئی رہنما نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں امن، استحکام اور ترقی کی خواہاں ہے اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس میں تمام وسائل کا استعمال ضروری ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھا جائے کہ منتخب حکومتوں کو کمزور کرنا، صوبوں کے مینڈیٹ کو چیلنج کرنا یا غیر آئینی اقدامات کا سہارا لینا خود ریاستی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔سیاسی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کی اس سخت پوزیشن نے خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر گورنر راج کی بحث سیاسی سطح پر جاری رہی تو یہ نہ صرف صوبے کے عوام میں بے چینی پیدا کرے گی بلکہ ملک کے دیگر وفاقی اکائیوں کے لیے بھی خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔
ادھر صوبائی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر راج کی کوئی آئینی گنجائش نہیں بنتی اور اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس کے خلاف بھرپور قانونی، سیاسی اور عوامی مزاحمت ہو گی۔اس صورتحال نے وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان کشیدہ ماحول کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی آنے والے دنوں میں ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔
