ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گئے جب ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی غیر معمولی ملاقات کی ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔ عالمی رہنماؤں کے ہجوم میں دونوں ممالک کے سربراہان کی گرمجوش مصافحے اور دیر تک ہاتھ تھامے کھڑے رہنے کی جھلکیاں سفارتی حلقوں میں بھی زیرِ بحث ہیں۔
کانفرنس کے سائیڈ لائنز پر ہونے والی اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر پیوٹن نے اہم عالمی و علاقائی چیلنجز، خاص طور پر سیکیورٹی صورتحال، توانائی تعاون اور اقتصادی تعلقات پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی مگر معنی خیز مکالمے نے پاکستان اور روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے نئے امکانات کو اجاگر کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر افغانستان سے ابھرنے والے نئے دہشت گردی کے خطرات پر بھی عالمی برادری کو خبردار کیا اور زور دیا کہ طالبان حکومت پر مؤثر دباؤ ڈال کر خطے میں امن کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس نازک صورتحال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اشک آباد میں وزیراعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان، ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف اور مختلف ممالک کے دیگر رہنماؤں سے بھی اہم ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون، توانائی منصوبوں اور باہمی تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کانفرنس کے دوران وزیراعظم کی مصروف سفارت کاری اور پُراعتماد انداز نے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مضبوطی سے پیش کیا بلکہ علاقائی استحکام کے لیے Islamabad کے کردار کو بھی نمایاں کر دیا۔
