لاہور: سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور اسپیکر پنجاب اسمبلی میاں منظور احمد وٹو طویل علالت کے بعد 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد صوبہ پنجاب اور ملک کے سیاسی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
میاں منظور احمد وٹو کا تعلق حویلی لکھا سے تھا اور وہ پنجاب کی سیاست کے معتبر اور تجربہ کار رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے صوبائی سیاست میں کئی دہائیوں تک خدمات انجام دیں اور عوامی خدمت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ وٹو خاندان کی سیاسی پہچان اور ان کا صوبائی اور قومی سیاست میں نمایاں کردار انہیں عوام میں انتہائی مقبول بناتا تھا۔
میاں منظور احمد وٹو نے اپنی سیاسی زندگی میں نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر خدمات انجام دیں بلکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے طور پر بھی صوبائی قانون سازی اور اہم سیاسی فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں پنجاب اسمبلی نے متعدد اہم پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دی۔
سابق وزیراعلیٰ کے انتقال پر سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ کئی سیاسی رہنماؤں نے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ میاں منظور احمد وٹو نے اپنی زندگی عوام کی فلاح و بہبود اور صوبائی ترقی کے لیے وقف کر دی۔
میاں منظور احمد وٹو کی شخصیت نہ صرف سیاست میں بلکہ عوامی مسائل کے حل میں بھی ایک مثالی رہنما کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ ان کی قیادت، تجربہ اور عوامی خدمت کی یادیں پنجاب کی سیاسی تاریخ کا حصہ رہیں گی۔
